Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں۔ اس وقت موت کا فرشتہ آتا ہے اور نہایت آسانی کے ساتھ اس کے مادی جسم کو چھوڑ کر اس کی روح کو اٹھا لے جاتا ہے۔ اس کے برعکس غیر مومن کی ذات میں روح اور جسم باہم ایک دوسرے کے ساتھ شدت سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ چنانچہ جب اس کی عمر پوری ہوتی ہے اور موت کا فرشتہ روح قبض کرنے کے لئے آتا ہے تو وہ زبردستی کھینچ کر اس کی روح کو اس کے جسم سے جدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی جان مشکل سے نکلتی ہے۔ ۱۵ جنوری ۱۹۸۹ میرے چچا زاد بھائی اقبال احمد سہیل (ایم اے) شاعر تھے۔ اسی کے ساتھ وہ خاندان کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ شخص تھے۔ ان کے اثر کے تحت گھر میں شعر و شاعری کا تذکرہ رہتا تھا۔ چنانچہ ابتدائی زندگی میں میں بھی شعر پسند ہوگیا۔ غور و فکر کرنے کا ذوق میرے اندر فطری تھا۔ چنانچہ میں اکثر اشعار پر غور کرتا رہتا۔ اس کی وجہ سے اشعار کے نئے نئے معانی میرے اوپر کھلتے رہتے تھے۔ ۱۹۲۵ کے لگ بھگ زمانہ میں جب کہ میں جونپور (چہار سو بازار) میں تھا، ایک صاحب باقاعدہ مجھ سے دیوان غالب پڑھنے کے لئے آیا کرتے تھے۔ ۱۹۳۸ سے میرے اندر تبدیلی ہوئی اور شاعری وغیرہ چھوڑ کر میں اسلام کی کی طرف پوری طرح مائل ہوگیا۔ اب میرا ذہن قرآن وحدیث پر غور کرنے لگا۔ پہلے میرے ذہن پر اشعار کے معانی کھلتے تھے۔ اب مجھ پر قرآن و حدیث کے معانی کھلنے لگے۔ پچھلے ۴۰ سال سے یہ سلسلہ خدا کے فضل سے مسلسل جاری ہے۔ آج صبح ابھی میں بستر پر تھا کہ حدیث ذہن میں آئی۔ ایک حدیث قدسی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں : "أنا عند ظن عبدي بي فليظن بي خيراً (میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں تو اس کو چاہئے کہ وہ میرے ساتھ اچھا گمان کرے)۔ اس حدیث پر غور کرتے ہوئے میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی صفات کمال کا اعتبار کرتے ہوئے بندہ ایسا کرے کہ وہ احتمالات شبہ کے مقابلہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page