Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

بجائے درگزر کا معاملہ فرمائے گا۔ وہ اس کی غلط کاری کو عجز پر محمول کرکے چھوڑ دے گا نہ کہ سرکشی پر محمول کرکے اس کو سزا دے۔ وہ اس کے ساتھ بحیثیت محاسب معاملہ نہ فرمائے گا بلکہ بحیثیت صمد معاملہ فرمائے گا۔ بندے کے پاس اگر حسن عمل کا کوئی ذرہ ہے تو وہ اس کے بقیہ اعمال نامہ کو اس کے تابع کر دے گا نہ کہ ذرہ کو بقیہ اعمال نامہ کے تابع کر دے۔ ۱۶ جنوری ۱۹۸۹ء نیویارک سے نکلنے والا ہفتہ وار میگزین (Time) ۱۹۲۳ء میں جاری ہوا تھا شروع ہونے کے بعد پورے ۶۵ سال تک اس کا نام صرف ’’ٹائم‘‘ رہا۔ اس کی اشاعت بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ واقعی معنوں میں ایک عالمی میگزین (Global magazine) بن گیا۔ وہ پانچ ملین کی تعداد میں چھپ کر ہر ملک اور ہر قوم میں پڑھا جانے لگا۔ اب اس کے مالکوں نے فیصلہ کیا کہ اس کے نام کے ساتھ انٹرنیشنل کا لفظ بڑھا دیا جائے۔ ۷ اکتوبر ۱۹۸۸ء کو اس کا جو شمارہ نکلا، اس میں اس کا نام ٹائم انٹرنیشنل (Time International) لکھا ہوا تھا۔ اس کے بعد سے اس کا یہی نام لکھا جا رہا ہے۔ یہ سیکولر لوگوں کا حال ہے۔ وہ جو نام رکھتے ہیں، واقعہ کے مطابق رکھتے ہیں۔ ان کا نام ان کے لئے امر واقعہ کا اظہار ہوتا ہے۔ دوسری طرف موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی آرزوؤں اور خوش فہمیوں کو نام کی صورت دے دیتے ہیں۔ وہ جب کوئی پرچہ نکالتے ہیں تو اول دن ہی سے اس کا نام انٹرنیشنل ہوتا ہے۔ خواہ ان کے اپنے مخصوص حلقہ کے باہر وہ خود مسلمانوں میں بھی نہ پڑھا جاتا ہو۔ ان کی حکومت کا نام اسلامی جمہوریہ ہوتا ہے، خواہ پہلے ہی الکشن میں سیکولر پارٹی ملک میں غالب آجائے۔ وہ اپنے اکابر کو شیخ الہند، امام الہند، مفکر عالم اور عہد ساز شخصیت کا لقب دیتے ہیں۔ خواہ عالمی معیار کے لحاظ سے ان بزرگوں کی حیثیت ایک معمولی مصنف یا مقرر کی کیوں نہ ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page