Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 150

By Maulana Wahiduddin Khan

وغیرہ۔ ان تمام امتیازی خصوصیات کے باوجود مسلمان ہی آج سب سے زیادہ بے وقار قوم بنے ہوئے ہیں۔ کیسی عجیب ہے یہ صورتحال۔ ۲۵ اگست ۱۹۸۹ ایک تاجر سے گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ آپ تجارت کر رہے ہیں۔ اس کے تحت آپ کو بہت سے کام کرنے پڑتے ہیں۔ مثلاً دکان بنانا، سفر کرنا، سامان حاصل کرنا، اشتہار دینا، تعلقات قائم کرنا، رجسٹر مرتب کرنا، عدالتی معاملات سے نپٹنا، وغیرہ وغیرہ۔ مگر ان تمام مختلف سرگرمیوں کا مقصد صرف ایک ہے۔ اور وہ پیسہ حاصل کرنا ہے۔ آپ کی یہ تمام سرگرمیاں اگر آپ کو پیسہ دے رہی ہوں تو وہ بامعنی ہیں۔ اور اگر ان کے نتیجہ میں آپ کو پیسہ نہ ملے تو تمام سرگرمیاں بے معنی ہو کر رہ جائیں گی۔ یہی معاملہ دین کا ہے۔ دین میں بھی بظاہر بہت سے اعمال ہیں۔ کلمہ، نماز، روزہ، حج اور دوسرے اعمال۔ یہ سرگرمیاں محض شکلاً مطلوب نہیں ہیں۔ بلکہ ان کا کوئی اندرونی مقصد ہے۔ اور وہ مقصد یہ ہے کہ آدمی کے اندر تقویٰ کی صفت پیدا کر رہی ہوں تو وہ بامعنی ہیں۔ ورنہ سب کی سب بے معنی۔ ان سرگرمیوں کی تقویٰ کے بغیر کوئی قیمت نہیں۔ ۲۶ اگست ۱۹۸۹ رابندر ناتھ ٹیگور کا ایک ناول ہے جس کا اصل بنگالی نام جو گا جوگ ہے۔ یہ ناول ساہتیہ اکیڈمی نئی دہلی سے اردو میں چھاپا گیا ہے۔ یہ اردو ترجمہ ۳۵۷ صفحات پر مشتمل ہے اور اس کا نام سنجوگ ہے۔ کتاب کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ ہیروئن کمودنی کا اپنے شوہر سے نباہ نہیں ہوا۔ وہ سسرال سے واپس ہو کر اپنے بھائی کے پاس آگئی۔ اس کے ماں باپ مر چکے تھے۔ بھائی تنہا اپنے گھر میں رہتا تھا۔ بہن نے اپنے بھائی سے کہا کہ میں یہاں تمہارے اوپر بار تو نہ ہو جاؤں گی۔ بھائی پر داس نے کہا کہ ہرگز نہیں۔ تم میری بہن ہو۔ تم یہاں وہ کام کرو گی جو کوئی پرائیویٹ سیکریٹری بھی نہیں کر سکتا۔ اس دوران بھائی جو کچھ اپنی بہن سے کہتا ہے اس میں سے ایک جملہ یہ ہے : پھر تو یہ جانتی ہے کہ مجھے تعلیم دینے کا شوق ہے۔ تجھ سے بہتر شاکر مجھے کون ملے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page