آغازِ کلام
Urdu book, p. 151
By Maulana Wahiduddin Khan
تجھے ساتھ لے کر پڑھوں گا۔ تو ضرور مجھ سے آگے بڑھ جائے گی۔ لیکن میں ذرا بھی رشک نہ کروں گا۔ رابندر ناتھ ٹیگور ۱۸۶۱ میں کلکتہ میں پیدا ہوئے اور وہیں ۱۹۴۱ میں ان کی وفات ہوئی۔ ان کے ناول انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز کے ہندوستان کو بتاتے ہیں۔ مذکورہ اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ زمانہ آج کے زمانہ سے کس قدر مختلف تھا۔ مگر اس سے بھی زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ مسلم رہنماؤں نے اس زمانہ کو بالکل استعمال نہیں کیا، وہ تقریبا بلا استعمال ختم ہو گیا۔ ۲۷ اگست ۱۹۸۹ المتنبی مشہور عرب شاعر ہے۔ وہ ۹۱۵ ء میں کوفہ میں پیدا ہوا، ۹۶۵ء میں دیر العقول میں وفات پائی۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ کسی نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ لا نبی بعدی (میرے بعد کوئی نبی نہیں)، اس نے کہا کہ تم لوگ اس حدیث کا مطلب غلط نکالتے ہو۔ یہ حدیث دراصل اس طرح ہے : لا نبیّ بعدی۔ یعنی ' لا ' میرے بعد نہیں ہے، میں ہی وہ نبی ہوں اور آسمان میں میرا نام لاہے (وانا اسمى فى السماء لا ) یہ استدلال نہیں ہے، بلکہ لطیفہ ہے۔ اس سے تفریح کا فائدہ ہو سکتا ہے، مگر اس قسم کے شاعرانہ نکتوں سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ ۲۸ اگست ۱۹۸۹ پاکستان کے اخباروں میں ' وفاق ' ایک اسلامی اخبار سمجھا جاتا ہے۔ اس کے شمارہ ۲۴ اگست ۱۹۸۹ کے اداریہ کا عنوان ہے : ” بھارت میں مسلم اقلیت کی زبوں حالی پورا مضمون رسمی معلومات کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔ مثلاً اس میں درج ہے کہ ” بھارت کے رزررو بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق، مسلمانوں کو بشکل چھ اعشاریہ اور دو فی صد قرضے فراہم کئے جاتے ہیں“۔ یہ ایک لغو بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمان عام طور پر بینک کا قرضہ لینے سے احتراز کرتے ہیں۔ کیونکہ اس میں انھیں سود دینا پڑتا ہے۔ ان کا یہ احتراز علماء اسلام کے فتوؤں کی وجہ سے ہے نہ کہ رزررو بینک کی پالیسی کی وجہ سے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader