آغازِ کلام
Urdu book, p. 152
By Maulana Wahiduddin Khan
نکلنے سے اچھا تھا۔ بیسویں صدی کے نصف اول میں سوشلزم کی دھوم تھی۔ روس اور چین جیسے ملکوں میں مکمل مارکسی نظام نافذ کیا گیا۔ اور دوسرے ملکوں (مثلاً ہندوستان) میں سوشلزم کے نام سے اس کے نظریات کو اختیار کرنے کی کوشش کی گئی۔ سوشلزم یا مارکسزم کے تحت سلب و نہب کا سلسلہ شروع ہوا۔ لوگوں پر زبردست مظالم (Social necessity) اور اجتماعی ضرورت (Greater good) کہاجا کہ عظیم تر بھلائی کی خاطر ایسا کیا جا رہا ہے۔ مگر بیسویں صدی کے آخر میں پہنچ کر یہ نظریہ لغو قرار دیدیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں ٹائمس آف انڈیا (۲۹ اگست ۱۹۸۹) میں ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ سیکشن ۲، صفحہ ۳ بعد کے مسلمانوں میں بہت کچھ بگڑا گیا، مگر اسلام کا نظریہ کبھی فیل نہیں ہوا۔ جب کہ مارکسزم اور سوشلزم کا معاملہ یہ ہے کہ خود ان کے نظریات فکری اعتبار سے غلط قرار پا گئے ہیں۔ ۳۰ اگست ۱۹۸۹ ایک مصری عالم محمد عوضین الہامی (ابھیزہ) ملاقات کے لئے۔ ان کے ساتھ قطر کے ایک عالم بھی تھے۔ مصری عالم سے میں نے جمال عبد الناصر کے بارہ میں سوالات کئے۔ میں نے پوچھا کہ کیا یہ صحیح ہے کہ جمال عبد الناصر یہ کہتے تھے کہ نحن ابناء الفراعنة سنرميكم في البحر۔ انھوں نے کہا کہ جمال عبد الناصر کی تقریریں میں نے سنی ہیں۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ نحن سنلقي اليهود فى البحر۔ مگر میں نے خود کبھی ان کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ ”نحن ابناء الفراعنة“ اگرچہ انہیں فرعونی تہذیب سے دلچسپی تھی۔ مگر یہ جملہ میری معلومات کے مطابق انھوں نے نہیں کہا۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ جمال عبد الناصر نماز روزہ کے پابند تھے۔ ان کے گھر کے سبھی لوگ نماز روزہ کے عامل تھے۔ ان کی بیوی پورے ستر میں رہتی تھیں۔ البتہ اخوانیوں پر انھوں نے شدید مظالم کئے۔ مگر اب مصر میں اخوانی بالکل آزاد ہیں۔ چوں کہ اب وہ حکومت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader