Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 153

By Maulana Wahiduddin Khan

میں بڑے بڑے کاروبار کر رہے ہیں اور اچھی حالت میں ہیں۔ مصری عالم کی مذکورہ گفتگو میں نے ایک ہندوستانی مسلمان سے بتائی جو جمال عبدالناصر کے مخالف ہیں، انھوں نے فوراً کہا کہ ان کا نماز روزہ حقیقتًا Cultural habit کے طور پر تھا، نہ کہ سچی دینداری کے طور پر۔ یہی وہ ذہنی انحراف ہے جو کسی آدمی کو سچائی تک پہنچنے نہیں دیتا۔ مصر کے مذکورہ واقعہ میں اصل سبق یہ ہے کہ حکمرانوں کا ظلم صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو ان کا اقتدار چھینے کے لئے اٹھیں، اگر آپ حکمران کے لئے اس قسم کا سیاسی مسئلہ نہ نہیں تو وہ آپ سے تعرض بھی نہیں کرے گا۔ مگر مذکورہ بزرگ نے یہ سبق نہیں لیا۔ انھوں نے اپنے ذہن کی گاڑی دوسری طرف موڑ دی اور یہ کہہ دیا کہ مصر کے حکمران Cultural habit کی وجہ سے نماز روزہ ادا کرتے تھے۔ ۳۱ اگست ۱۹۸۹ اخبار العالم الاسلامی (مکہ) کے شمارہ ۲۱ اگست ۱۹۸۹ میں صفحہ ۱۵ پر ایک خبر چھپی ہے جس کا عنوان یہ ہے ــــــــ برطانیہ کی استلیتیں برطانى اقتدار کو اختیار کریں : Minorities urged to embrace UK values. اس میں بتایا گیا ہے کہ ایک برطانی منسٹر جان پیٹین (John Patten) نے برطانیہ میں بسنے والے مسلمانوں سے یہ کہا کہ آپ لوگ برطانیہ میں اپنی شرائط پر نہیں رہ سکتے اور نہ دہرا وفاداری کے ساتھ یہاں رہ سکتے ہیں : One cannot be British on one's own exclusive terms or on a selective basis, nor is there room for dual loyalties where those loyalties openly contradict one another. قومی آواز (۳۰ اگست ۱۹۸۹) میں صفحہ اول پر ایک خبر ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کی حکمران پارٹی کے ایک ممبر پارلیمنٹ مسٹر ٹاونیٹڈن نے برطانی مسلمانوں کے خلاف بہت سخت بیان دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سلمان رشدی کی ناول (شیطانی آیات) پر جو مسلمان برہم ہیں، وہ جہاں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page