آغازِ کلام
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
سے آئے ہیں وہیں انہیں لوٹ جانا چاہئے۔ برطانیہ میں آباد مسلمان نہایت عزت کے ساتھ وہاں رہ رہے تھے۔ مگر سلمان رشدی کی کتاب پر جھوٹا ہنگامہ کر کے انھوں نے اپنے آپ کو انگریزوں کی نظر میں بے عزت کر لیا۔ مجھے امید نہیں کہ اب دوبارہ وہ وہاں سابقہ عزت اور وقار حاصل کر سکیں گے۔ سلمان رشدی کی کتاب ستمبر ۱۹۸۸ میں لندن سے شائع ہوئی۔ فروری میں آیت اللہ خمینی نے اس کے قتل کا فتویٰ جاری کیا۔ ۱۵ فروری ۱۹۸۹ کو رشدی روپوش ہو گیا۔ اس وقت سے وہ حکومت برطانیہ کی حفاظت میں ہے اور حکومت اس کی خصوصی حفاظت پر روزانہ تقریباً ایک ہزار پونڈ خرچ کر رہی ہے۔ ۳ جون ۱۹۸۹ کو آیت اللہ خمینی کا انتقال ہو گیا۔ یکم ستمبر ۱۹۸۹ حیدر آباد کے حبیب محمد صاحب (حبیب بھائی) ملاقات کے لئے آئے۔ گفت گو کے دوران انھوں نے بتایا کہ ۱۹۷۹ میں وہ کپڑے کی ایک نمائش دیکھنے کے لئے ویسٹ جرمنی گئے تھے۔ وہاں وہ جرمنی کے شہر ہینور (Hanover) میں تھے۔ کار کے ڈرائیور سے انھوں نے ایک بار کہا کہ دوسری عالمی جنگ میں جرمنی کو بہت نقصان ہوا۔ سارا ابر با در ہو گیا۔ ڈرائیور نے کہا کہ بر بادی تو ضرور ہوئی۔ مگر اس میں بھی تعمیر کا ایک پہلو تھا۔ کیوں کہ اس کے بعد ہم کو موقع ملا کہ ہم جرمنی کو از سر نو زیادہ بہتر طور پر بنا سکیں۔ اگر بر بادی نہ ہوتی تو نیا دنیا زیادہ بہتر جرمنی ہم نہ بنا جاتے۔ میں نے کہا کہ یہی معاملہ قوموں کا بھی ہے۔ قومیں جب بربادی سے دو چار ہوتی ہیں تو ان کے لئے تعمیرِ حیات کا نیا امکان پیدا ہوتا ہے۔ مثلاً ہندوستان کے مسلمان ۴۷ ۱۹ کے بعد بربادی سے دو چار ہوئے۔ اس میں ان کے لئے نئی تعمیر کا امکان نکل آیا۔ اس بربادی نے ان کی خوش فہمیوں کے خیالی محل کو توڑ دیا اور انہیں اس قابل بنایا کہ وہ حقیقت کی زمین پر کھڑے ہو سکیں۔ ۲ ستمبر ۱۹۸۹ آج کے ٹائمز آف انڈیا میں جان رے (John Ray) کا قول نقل کیا گیا ہے کہ خوشحال میں محتاط رہو اور بدحالی میں صبر کرو: In prosperity, caution; in adversity, patience.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader