آغازِ کلام
Urdu book, p. 155
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ بڑی حکمت کی بات ہے۔ اگر آدمی اس حکیمانہ نصیحت کو اختیار کر لے تو دولت مندی اور مفلسی دونوں حالت میں وہ مطمئن اور کامیاب رہے گا۔ جب کہ اس کے برعکس روش آدمی کو دونوں حالتوں میں ناکام و نامراد بنا دیتی ہے۔ ۳ ستمبر ۱۹۸۹ مولانا باب الدین مظاہری جامعہ عربیہ، ہتور، ضلع بانده، ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ کا پور میں کئی سال تک رہے ہیں ، ان کے بیان کے مطابق، کانپور کے علاقہ طلاق محل میں ۷ - ۸ مندر ایسے ہیں جو مسلمانوں کے قبضہ میں ہیں۔ اسی طرح ہندو علاقوں کی کچھ مسجدیں ہندوؤں کے قبضہ میں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ یہ منظر انھوں نے خود اپنی آنکھ سے دیکھا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مقبوضہ مسجدوں کو وا گزار کرانے کی سب سے زیادہ آسان تدبیر یہ ہے کہ مسلمان اپنے قبضہ کے مندروں کو از خود ہندوؤں کے حوالے کر دیں۔ اسی طرح مغل دور میں، جن مندروں کو مسجد میں تبدیل کیا گیا ہے، انہیں بھی از خود ہندوؤں کے حوالے کر دیا جائے۔ مولانا عبدالحی صاحب (سابق ناظم ندوۃ العلماء) کی کتاب " ہندوستان اسلامی عہد میں" کے اندر ایسی ایک درجن مسجدوں کا ذکر ہے جو مندر کی جگہ پر بنائی گئی ہیں۔ اسی کتاب پر مولانا ابوالحسن علی ندوی کا " بسوط مقدمہ " ہے جس میں انھوں نے اس کتاب کے بیانات کو صحیح تصویر اور مکمل دستاویز" قرار دیا ہے۔ (صفحہ ۱۷) ۴ ستمبر ۱۹۸۹ دہلی کے اردو اخبار قومی آواز (۴ ستمبر) میں مولانا ابوالحسن علی ندوی کا ایک انٹرویو چھپا ہے۔ قومی آواز کے نمائندہ سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا موصوف نے کہا کہ " وہ معاملات کو سیاست کے بجائے اخلاقیات کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ حالات میں جس ابتری کی عام طور پر شکایت کی جاتی ہے، اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ انسانوں نے اپنی اخلاقی ذمہ داریاں فراموش کر دی ہیں اور عام انسانوں کی فلاح سے زیادہ شخصی اور جماعتی مفادات کی فکر کی جاتی ہے لوگوں کو) صحیح راستہ پر لانے کے لئے وہ پچھلے کئی برس سے پیام انسانیت کی تحریک چلا رہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader