Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 156

By Maulana Wahiduddin Khan

میں جس کا سیاست سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں۔ صفحہ ۲ مولانا ابو الحسن علی ندوی کا اپنے بارہ میں یہ بیان ادھورا ہے۔ انہیں کہنا چاہئے جن لوگوں سے مجھے شکایت نہ پیدا ہوئی ہو، ان کے لئے میں اخلاق ہوں، مگر جن سے میری شکایت پیدا ہو جائے ان کے لئے میں سیاسی لیڈروں کی طرح ہو جاتا ہوں۔ اس کی زندہ مثال میری ذات ہے۔ میں نے مولاناموصوف پر خالص علمی انداز کی تنقید کی، اس کے نتیجہ میں وہ مجھ سے برہم ہو گئے۔ میری باتوں کا انھوں نے علمی جواب تو نہیں دیا۔ البتہ انتہائی بے بنیاد طور پر میرے اوپر کذب بیانی کا الزام لگایا ( ماہنامہ الفيصل ، حيدر آباد ، دسمبر ۱۹۸۶ ، صفحه ۲۳ ) محمد ہاشم قاستی صاحب (حیدر آباد) نے ہمارے خلاف کھلے طور پر غصب اور خیانت کا معاملہ کیا ہے ۔ اور اس کے بعد مسلسل میرے خلاف جھوٹی الزام تراشی کی مہم چلا رہے ہیں۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی اور ان کا حلقہ " بغض معاویہ" کی نفسیات کے تحت محمد ہاشم قاسمی صاحب کاسر پرست بن گیا۔ عام پذیرائی کے علاوہ خود مولانا ابو الحسن علی ندوی نے حیدر آباد کی اس عمارت کی خیر مقدمی تقریب میں شرکت کی جو یقینی طور پر مغصوبہ ہے (تعمیر حیات ، لکھنو ، ۱۰ مارچ ۱۹۸۹ ، صفحه ۴ ) مولاناموصوف کے رفیق خاص ڈاکٹر عبد اللہ عباس ندوی اس منصبہ عمارت کے ایک استقبالیہ میں شریک ہوئے ۔ وہاں " پر تکلف عصرانہ تناول کیا اور محمد ہاشم قاسمی کی تعریف کی (تعمیر حیات ، ۱۰ مئی ۱۹۸۹ صفحه ۹ ) وغیرہ۔ ۵ ستمبر ۱۹۸۹ پاکستان کے روزنامہ نوائے وقت ( ۲۸ اگست ۱۹۸۹) میں ایک عبرت ناک واقعہ شائع ہوا ہے۔ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے ۱۹۴۹ میں قرارداد مقاصد پاس کی۔ اس کا اصل متن انگریزی میں تھا ۔ مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس کا اردو ترجمہ دیکھا تو وہ " بے پناہ برہم " ہو گئے۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی قرارداد مقاصد پر جرید علماء کے حساس رویہ کا اس انداز سے ذکر کرتے ہیں : واقعہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے محکمہ اطلاعات نے اس کا اردو ترجمہ کیا جو درست نہ تھا۔ قانونی نکات اس ترجمہ میں مسخ ہو کر رہ گئے تھے ۔ میں انٹی جینس اسکول کے کوارٹرز میں رہتا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page