آغازِ کلام
Urdu book, p. 157
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرے دن صبح ہی صبح نماز کے بعد مولانا شبیر احمد عثمانی ، مولانا احتشام الحق تھانوی اور غالباً مولانا ظفر احمد انصاری میرے پاس پہنچے۔ مولانا عثمانی کہنے لگے کہ اس قرار داد مقاصد میں ہمارے ساتھ بڑا دھوکا ہوا۔ آپ نے کہا کیا کہا تھا اور کیا لکھا ہے۔ میں نے دیکھا تو ترجمہ غلط تھا۔ میں نے وہیں بیٹھ کر ترجمہ کیا تو مولانا عثمانی مطمئن ہوگئے؛ یہی معاملہ ان دوسرے علما کا تھا جو انڈین نیشنل کانگریس میں شریک تھے۔ کانگریس کی تمام کارروائیاں انگریزی زبان میں ہوتی تھیں، اور یہ علما انگریزی جانتے تھے۔ اس لئے عجیب عجیب لطیفے آتے تھے ۔ وہ علما، جو انگریزی سے ناواقف تھے، وہ ایسی تحریکوں میں کیوں شریک ہوئے جن کا سارا کام انگریزی زبان میں ہوتا تھا۔ یہ بات مجھے اتنی احمقانہ معلوم ہوتی ہے کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اس کی کیا توجیہ کروں۔ وہ اسلام بھی کیسا عجیب ہوگا جو انگریزی سیاسی تحریکوں میں شرکت کو کفر ودی ٹھہرائے مگر انگریزی سیکھنا اس کے نزدیک ضروری نہ ہو۔ 4 ستمبر ۱۹۸۹ تعمیر حیات، لکھنؤ (۱۰ اگست ۱۹۸۹) میں حافظ بشیر احمد مصری (۱۹۱۴) کا مضمون چھپا ہے۔ ۱۹۴۲ میں وہ انگلینڈ کی مسجد دو کنگ کے امام مقرر ہوئے تھے۔ اس ضمن میں وہ لکھتے ہیں کہ اس مسجد کو مستشرق ڈاکٹر لئیٹنر (Dr Lietner) نے ۱۸۸۹ میں تعمیر کرایا تھا۔ اس کے لئے ہندوستان کے مسلمانوں نے رقم فراہم کی تھی: اس مسجد کا ذکر انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (X/724) میں موجود ہے۔ اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں جو بتاتے ہیں کہ نو آبادباتی دور میں بھی انگریزوں میں بہت سے لوگ تھے جو اسلام کے حق میں نرم گوشہ رکھتے تھے۔ ان میں سے بہت سے انگریز مسلمان بھی ہوئے۔ یہ واقعہ انگریزوں میں اور اسی طرح پورے یورپ میں، اسلام کے دعوتی امکان کو بتا رہا تھا۔ مگر مسلم رہنماؤں میں کوئی ایک شخص بھی نہ تھا جو اس امکان کو دیکھے اور اس کو استعمال کرنے کی کوشش کرے ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے تمام رہنما دعوہ بلائینڈ (Dawa-blind) ثابت ہوئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader