Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 158

By Maulana Wahiduddin Khan

۷ستمبر ۱۹۸۹ سلمان رشدی کے خلاف جھوٹا طوفان اٹھانے والے مسلمان اب تقریباً خاموش ہو گئے ہیں ۔ حالاں کہ اس طوفان میں ایک طرفہ طور پر مسلمانوں کا نقصان ہوا ہے۔ ان مظاہروں میں بہت سے مسلمان مارے گئے ۔ بہت سی جائیدادیں جلائی گئیں۔ مگر سلمان رشدی بدستور زندہ موجود ہے ۔ اب تک اس کی کتاب کی گیارہ لاکھ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں ۔ اٹلی کے کتب فروشوں کی انجمن نے رشدی کی کتاب کو اس سال (۱۹۸۹۔۱۹۸۸) کی سب سے زیادہ بکنے والی کتاب قرار دیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا عجیب حال ہے ۔ ان کا براہ راست دام ایک طرفہ طور پر ان کی اپنی بربادی اور ہلاکت پر ختم ہو رہا ہے ۔ خواہ وہ سید احمد شہید بریلوی کا اقدام ہو یا موجودہ زمانہ میں بابری مارچ اور سلمان رشدی کے خلاف احتجاج ۔ ایسا تو نہیں کہ موجودہ مسلمان اللہ کی رحمت سے دور کر دیئے گئے ہوں۔ ۸ستمبر ۱۹۸۹ اخبار قومی آواز (ضمیمہ ۴ ستمبر ۱۹۸۹) میں ہندو افسانہ نگار رام لعل جی کی ایک تقریر چھپی ہے جو انھوں نے سویڈن کے ہندوستانیوں کے سامنے کی تھی۔ انھوں نے اس تقریر میں کہا : " ہندوستان ۴۷ ۱۹ میں ایک ہزار سال کی غلامی کے بعد آزاد ہوا ہے " ۔ دوسری طرف مسلمان اپنی تقریروں میں کہتے ہیں : ہم نے اس ملک پر ایک ہزار سال تک حکومت کی ہے۔ یہی ذہنی ، ہندوستان کے تمام فرقہ وارانہ مسائل کی جڑ ہے۔ مسلمان ماضی کے حاکمانہ احساس کی بنا پر ہندوؤں کو حقیر سمجھتے ہیں اور غیر ضروری طور پر ان سے لڑنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ہندو ماضی کے احساس محکومی کی بنا پر مسلمانوں سے نفرت کرنے لگاہے ۔ معمولی اشتعال پر اس کا انتقامی جذ بہ بھڑک اٹھتا ہے اور بے دردی کے ساتھ مسلمانوں کو مارنا پیٹنا شروع کر دیتا ہے۔ اس مسئلہ کو ختم کرنے کے لئے مسلمانوں کو پہل کرنا چاہئے۔ انھیں مذکورہ قسم کی بولی بولنا بالکل بند کر دینا چاہئے ۔ ہندوؤں سے اپنے تعلقات کو محبت کے جذبہ کے تحت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page