Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

استوار کرنا چاہئے نہ کہ فخر کے جذبہ کے تحت۔ میسور کے ٹیپو سلطان (۱۷۹۹-۱۷۴۹) کا مقابلہ انگریزوں کے ساتھ پیش آیا۔ انھوں نے فرانس سے انگریزوں کے خلاف معاہدہ کرنا چاہا مگر وہ فرانس کو اس پر راضی نہ کر سکے۔ اس کے بعد انھوں نے عرب، کابل، قسطنطنیہ، ماریشس اپنے وفود بھیجے تاکہ ان سے فوجی تعاون حاصل کریں۔ مگر اس میں انھیں کامیابی نہیں ہوئی۔ اسی طرح ہندستان کی ریاستوں کو انھوں نے انگریزوں کے خلاف جنگ میں ملانے کی کوشش کی۔ مگر کوئی ریاست تیار نہیں ہوئی۔ آخر کار وہ تنہا انگریزوں سے لڑ گئے۔ ۴ مئی ۱۷۹۹ کو سرنگا پٹنم میں انگریز کی گولی نے ان کا خاتمہ کر دیا۔ ٹیپو کا یہ قول بہت مشہور ہے : شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سال کی زندگی سے بہتر ہے۔ اس جملہ میں بہادری ضرور ہے، مگر اس میں دانش مندی نہیں۔ اگر یہ کوئی مطلق اصول ہو تو رسول اور اصحاب رسول کو مکہ میں شیر کی طرح لڑ کر شہید ہو جانا چاہئے تھا نہ کہ وہ ایک ایسی روش اختیار کریں جس نے اغیار کو موقع دیا کہ وہ اس کو "فرار" سے تعبیر کریں۔ جنوبی ہند میں حیدر آباد کے نظام نے ٹیپو سلطان کے برعکس طریقہ اختیار کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وقتی مصالحت کی بنا پر انھیں یہ موقع ملا کہ وہ قیام ریاست ۱۷۴۸ سے لے کر ۱۹۵۶ تک ہندستان کے اندر اور ہندستان کے باہر مسلمانوں اور اسلامی اداروں کی غیر معمولی خدمت کر سکیں۔ ٹیپو سلطان کے مذکورہ قول کے مقابلہ میں مجھے زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ— ایک دن کے لئے گیدڑ بن جانا آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ سو سال تک "شیر" بن کر رہ سکے۔ ۱۰ ستمبر ۱۹۸۹ امیر معاویہ نے عرب قبیلہ کے ایک سردار سے پوچھا کہ تم نے اپنی قوم کے اوپر سرداری کیسے حاصل کی۔ اس نے کہا : میں ان کے جاہلوں کی جہالت کو برداشت کرتا تھا۔ میں ان کے سائل کو دیتا تھا۔ میں ان کی ضرورتوں میں ان کی مدد کرتا تھا۔ پس جو شخص میری طرح کرے گا وہ میرے سے افضل ہوگا اور جو اس سے کم کرے گا وہ مجھ سے پست ہوگا۔ قال : كنت احلم عن جاهلهم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page