آغازِ کلام
Urdu book, p. 160
By Maulana Wahiduddin Khan
واعطی سائلهم و اسعیٰ فی حوائجهم . فمن فعل مثل فعلی فھو مثلی۔ کسی قوم میں کچی سرداری یا پکی قیادت حاصل کرنے کا بلا شبہ یہی صحیح ترین طریقہ ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں پریس اور کمیونی کیشن کی ایجاد نے لوگوں کو موقع دے دیا ہے کہ وہ جھوٹے الفاظ بول کر لوگوں کے اوپر ٹائد بن جائیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں کوئی سچالیڈر پیدا نہیں ہوا۔ البتہ ان کے درمیان جھوٹے لیڈروں کی اتنی کثرت ہے کہ ان کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔ ۱۱ ستمبر ۱۹۸۹ء ۱۹۸۹ نہرو ایوارڈ (Jawaharlal Nehru award for International understanding) فلسطینی لیڈریاسر عرفات کو دیا گیا ہے۔ اس پر ہندوستان کے ایک یہودی ۔ جواہر حزقیل (Jawahar Ezekiel) کا مراسلہ ٹائمز آف انڈیا (۱۱ ستمبر ۱۹۸۹) میں شائع ہوا ہے۔ مراسلہ نگار نے غصہ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے : To give this prestigious award to a man who has masterminded the birth of international terrorism and has dedicated his life to the destruction of the state of Israel is to devalue the award. یہ اس قابل قدر انعام کو بے قدر کرنا ہے کہ اس کو ایک ایسے شخص کو دیا جائے جو بین اقوامی دہشت گردی کا موجد ہے اور جس نے اپنی زندگی کو ریاست اسرائیل کی تخریب کے لئے وقف کر رکھا ہے۔ یاسر عرفات کو نہرو انعام دین مسلمانوں کے لئے خوشی کا باعث ہے اور یہود کے لئے غصہ کا باعث۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں فریق واقعات کو الگ الگ زاویہ سے دیکھتے ہیں۔ اس مثال سے زاویۂ نظر کے فرق کو سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک شخص نے یحییٰ بن اکثم مینی سے کہا کہ اے قاضی مجھے بتائیے کہ میں کتنا کھاؤں۔ قاضی نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader