آغازِ کلام
Urdu book, p. 161
By Maulana Wahiduddin Khan
الصيفي - ايما القاضی، کم آکل - اجابه القاضی؛ فوق الجوع دون الشبع ، اس سوال کا اس سے بہتر جواب نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا ہی کھانا بہتر کھانا ہے۔ جو شخص اس طرح کھائے وہ نہایت سکون میں رہے گا۔ مزید یہ کہ وہ بیماریوں سے محفوظ ہو جائے گا۔ اس کو ضرورت نہ ہوگی کہ وہ ڈاکٹروں اور حکیموں کے یہاں حاضری دے۔ ۱۳ ستمبر ۱۹۸۹ ٹائمز آف انڈیا (۱۳ ستمبر ۱۹۸۹ء) میں ایک خبر ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے صدر ڈاکٹر نجیب اللہ نے کہا ہے کہ وہ سابق ظاہر شاہ کی افغانستان واپسی کا خیر مقدم کریں گے، اگر اس سے ملک میں امن قائم کرنے میں مدد ملے: Dr Najibullah says he would welcome the return of former king Zahir Shah if it helped in the establishment of permanent peace and tranquility in his country. (p. 7) محمد داؤد خاں ، افغانستان کے وزیرِ اعظم تھے۔ ۱۷ جولائی ۱۹۷۳ء کو انقلاب برپا کر کے انھوں نے حکومت پر قبضہ کر لیا۔ ظاہر شاہ معزول ہو کر روم چلے گئے۔ اس وقت سے وہ وہاں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ۲۷ اپریل ۱۹۷۸ء کو دوسرا انقلاب ہوا۔ داؤد خاں اور ان کے بیشتر اہل خاندان قتل کر دیئے گئے۔ اور حفیظ اللہ امین ملک کے حکمراں بن گئے۔ جو شخص روایت شکنی کرے، وہ خود بھی بالاآخر روایت شکنی کا شکار ہوتا ہے۔ افغانستان میں دوبارہ ۱۹۷۹ میں روس کی مدد سے مقامی کیونسٹ پارٹی نے حکومت پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد ایک لاکھ سے زیادہ روسی فوجی اس ملک میں داخل کر دیئے گئے۔ ۱۹۸۸ میں اگر چہ روسی فوجیں واپس جا چکی ہیں۔ مگر سوویت یونین اب بھی کابل حکومت کو ۳۰ سے ۳۰ کروڑ ڈالر مالیت کے ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ دوسری طرف امریکہ ۱۹۸۹ - ۱۹۸۸ میں دو ارب ڈالر کی مالیت کے ہتھیار حکومت کے مخالف گروہ (مجا ہدین) کو دے چکا ہے۔ ان حالات میں بہترین قابلِ عمل بات یہ ہے کہ دونوں فریق ظاہر شاہ کی واپسی پر راضی ہو جائیں۔ ظاہر شاہ کو علامتی صدر ریاست بنا کر منصفانہ الیکشن کرایا جائے اور جو گروہ جیتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader