Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کو چار یا پانچ سال کے لئے حکومت کرنے کا موقع دے دیا جائے۔ قومی آواز (۱۳ ستمبر ۱۹۸۹) کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ برطانوی مسلمانوں (زیادہ صحیح لفظوں میں برطانیہ میں مقیم ہندوستانی اور پاکستانی مسلمانوں) نے فیصلہ کیا ہے کہ سلمان رشدی کے خلاف مہم کو جاری رکھا جائے۔ اخبار ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے رشدی کے ناول کے خلاف لندن اور بریڈ فورڈ میں حالیہ مظاہروں کے دوران تشدد دیکھا گیا تھا۔ اس پر برطانیہ و شمال آئر لینڈ کی مسلم تنظیموں کی مرکزی انجمن کے جنرل سکریٹری سید عزیز پاشا نے یہ کہہ کر تنقید کی کہ 'جس نے بھی تشدد سے کام لیا وہ سچا مسلمان نہیں ہے، اور ہم اس سے بری الذمہ ہیں'۔ یہ جھوٹے الفاظ ہیں۔ جلوس کے منتظمین کو تشدد کی غلطی کو خود اپنے آپ پر لینا چاہئے ۔ کیونکہ جو لوگ اتنے تربیت یافتہ نہ ہوں کہ وہ جلوس میں پر امن رہ سکیں، ان کا جلوس نکالنا جائز نہیں۔ اسی لندن میں پچاس سال پہلے فبیین سوسائٹی نے جلوس نکالا۔ بعض افراد نے اس میں تشدد کیا اور دولت مندوں کے مکانوں کے شیشے توڑ ڈالے۔ فبیین سوسائٹی کے لیڈروں نے اپنے آپ پر ذمہ داری لیتے ہوئے جلوس کے طریقے کو خیر باد کہنے کا اعلان کر دیا۔ اسی لندن میں مسلم رہنا تشدد کے لئے دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرا کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دے رہے ہیں۔ یہ ہے وہ اسلامی کردار جس کو موجودہ زمانہ کے نام نہاد لیڈر پیش کر رہے ہیں۔ ۱۵ ستمبر ۱۹۸۹ ٹائمز آف انڈیا ۱۳ ستمبر ۱۹۸۹ ، سکشن ۲ ، صفحہ ۳ پر شراران سنہا کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان کی بیوروکریسی نے اپنے استصالی مقصد کی خاطر ایک آئیڈیالوجی وضع کی ہے۔ یہ خطرہ میں گھرا ہوا ہندوستان (Endangered India) کی آئیڈیالوجی ہے۔ یہ ہماری بیوروکریسی کے لئے بے حد مفید ہے۔ ٹھیک یہی معاملہ اس ملک کے مسلم لیڈروں کا بھی ہے۔ وہ اسلام خطرہ میں' اور 'مسلمان خطرہ میں' کی گھنٹی بج کر اپنی لیڈری قائم کئے ہوئے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ ان کے لیڈروں کا یہی استصالی مزاج ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page