Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 163

By Maulana Wahiduddin Khan

کیا کرتے تھے۔ انہوں نے لکھا تھا: "ہمارے اکثر ادیب انقلاب کا خوش آئند خواب اسی طرح دیکھتے ہیں جس طرح کوئی عاشق اپنی محبوبہ کا تصور کرتا ہے۔ ان کے لئے مزدور، کسان، سرمایہ دار، طبقاتی کش مکش، اور انقلاب کی وہی حیثیت ہے جو غزل گو شعر اکے لئے گل و بلبل، ہجر و وصال، ساقی و بادہ، رقیب و محتسب وغیرہ کی۔" (اردو ادب کے رجحانات پر ایک نظر) موجودہ زمانہ کے وہ مسلمان جو "اسلامی انقلاب" کی باتیں کرتے ہیں، وہ بھی اسی نوعیت کی ایک قسم ہیں۔ شاعروں اور ادیبوں کے بعد یہ اسی قسم کا تیسرا گروہ ہے۔ تینوں یکساں طور پر رومانی تخیلات کی پیداوار ہیں۔ وہ اگرچہ الگ الگ الفاظ بولتے ہیں مگر بنیادی طور پر سب کی نوعیت ایک ہے۔ ستمبر ۱۹۸۹ء افغانستان سے روسی فوجیں واپس جاچکی ہیں۔ اس کے بعد افغانی مجاہدین نے زبردست کوشش کی کہ وہ جلال آباد پر قبضہ کر لیں۔ مگر مسلسل حملوں کے باوجود وہ مکمل طور پر ناکام رہے جب کہ ان حملوں پر ایک سال کی مدت گزر چکی ہے۔ ٹائمس آف انڈیا (۷، ستمبر) میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ کی تقریر شائع ہوئی ہے۔ اس میں امریکہ پر تنقید کی گئی ہے کہ اس نے افغانی مجاہدین کو ہتھیاروں کی فراہمی روک دی۔ رپورٹ کے مطابق، انہوں نے کہا کہ افغان باغیوں کا جلال آباد پر قبضہ کرنے میں ناکام ہوتا اس سبب سے تھا کہ امریکہ نے جنوری ۱۹۸۹ء سے مئی تک انہیں کوئی ہتھیار نہیں دیا:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page