آغازِ کلام
Urdu book, p. 164
By Maulana Wahiduddin Khan
افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی کو تمام مسلمان افغان مجاہدین کا کارنامہ بتاتے رہے۔ اور اب جبکہ روسیوں کی واپسی کے باوجود یہ افغانی مجاہدین ڈاکٹر نجیب اللہ کی کابل حکومت کے مقابلے میں عاجز ثابت ہورہے ہیں تو اس کا الزام فوراً انھوں نے امریکہ کے سر کردگیا۔ حالانکہ یہ الزام اگر صحیح ہو تو اس کے بعد یہ بھی ماننا ہوگا کہ اس سے پہلے افغان مجاہدین کی کامیابی تمام تر امریکی فوجی امداد کا کرشمہ تھی۔ ۱۸ ستمبر ۱۹۸۹ء سردار سرجیت سنگھ لانبا (۵۵ سال) سے ملاقات ہوئی۔ وہ علامہ اقبال کے عاشق ہیں۔ اقبال کے اکثر اشعار ان کو زبانی یاد ہیں۔ اقبال کے بارہ میں بہت زیادہ معلومات رکھتے ہیں۔ وہ ۱۹۷۴ء میں پاکستانی پنجاب سے ہندوستان آئے۔ مسٹر لانبا نے بتایا کہ لاہور کے راجپال نے "رنگیلا رسول" کتاب لکھی۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین تھی ۔ اس پر مسلمان بھڑک گئے ۔ علم الدین ایک بڑھئی کا لڑکا تھا۔ اس نے قسم کھائی کہ میں راجپال کا خون پئے بغیر نہیں رہوں گا۔ راجپال دکاندار تھا۔ وہ اس کی دکان پر گیا۔ اس نے وہاں پوچھا کہ تم راجپال ہو ۔ دکاندار نے کہا کہ ہاں ۔ کئی بار تصدیق کرلے کے بعد علم الدین نے چھرا نکالا اور یہ کہہ کر اسے مار ڈالا کہ میں رسول اللہ کی توہین برداشت نہیں کرسکتا۔ اس کے نام پر لاہور میں ایک سڑک ہے جس کا نام غازی علم الدین روڈ ہے ۔ علم الدین پر قتل کا مقدمہ چلا اور اس کو پھانسی ہوگئی۔ اقبال کو جب معلوم ہو کہ علم الدین کو پھانسی ہوگئی ہے تو انھوں نے اپنی مادری زبان پنجابی میں کہا: اَسیں گلاں کر دے رہے، ترکھاݨ دا منڈا بازی لے گیا یعنی ہم سب باتیں ہی کرتے رہے، بڑھئی کا لڑکا بازی لے گیا۔ مسٹر لانبا نے اقبال کی اس بات کو تعریف کے انداز میں کہا۔ مگر میں اس کو سخت قابل اعتراض سمجھتا ہوں۔ علم الدین نے جس طرح راجپال کو مارا وہ اسلامی شریعت میں قطعا درست نہ تھا۔ اگر بالفرض اقبال کے نزدیک "رنگیلا رسول" لکھنے کی سزا قتل ہو تب بھی کسی فرد کو یہ سزا نافذ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ عدالت اور بادشاہ قابل مذمت تو ہیں مگر ہمارے رمنا۔ پچھلے سال سے اس قسم کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader