آغازِ کلام
Urdu book, p. 165
By Maulana Wahiduddin Khan
جذباتی ہو کر رہ گئی ہے۔ سید ہاشم علی صاحب آج ملاقات کے لئے آئے۔ وہ ۲۱ اکتوبر ۱۹۸۹ کو وائس چانسلر (علی گڑھ) کے عہدے سے ریٹائرڈ ہورہے ہیں۔ سید ہاشم علی صاحب نہایت مخلص اور لائق آدمی ہیں۔ مگر ان کے خلاف علی گڑھ کے نام نہاد اسلام پسند طبقہ نے بہت طوفان اٹھایا۔ کہا گیا کہ وہ اسلام دشمن اور سیکولر نواز ہیں۔ وغیرہ۔ اس مخالفت کی ایک وجہ یہ تھی کہ ہاشم علی صاحب کے اندر کچھ مزاح (Humour) کا عنصر پایا جاتا ہے۔ مثلاً ایک مرتبہ انھوں نے علی گڑھ میں یہ کہہ دیا کہ آجکل متقی آدمی اس کو سمجھا جاتا ہے جس نے اپنے بڑے بھائی کا کرتا اور چھوٹے بھائی کا پاجامہ پہن رکھا ہو۔ وغیرہ۔ اس کے سلسلہ میں میرا خیال ہے کہ یا تو متکلم کے اندر اتنی حکمت ہو کہ وہ ایسے موقع پر اس قسم کا مزاحیہ فقرہ نہ کہے، یا سامع کے اندر اتنی وسعتِ ظرف ہو کہ وہ اس کو نظر انداز کر دے۔ بدقسمتی سے موجودہ مسلمانوں کے اندر دونوں میں سے کوئی ایک بات بھی نہیں۔ اس لئے مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کسی طرح درست نہیں ہوتے۔ ۲۰ ستمبر ۱۹۸۹ جھینگا مچھلی کو عربی میں ابیسان یا دود کہتے ہیں۔ کسی نادان نے مفتی صاحبان سے فتویٰ پوچھا کہ جھینگا حرام ہے یا حلال۔ مفتی کو کہنا چاہئے تھا کہ اس قسم کے سوال نہ کرو۔ جب قرآن میں کہہ دیا گیا ہے کہ احل لکم صید البحر وطعامه (المائدہ ۹۶) ایسی حالت میں اس قسم کا سوال غیر ضروری ہے۔ مگر مفتی صاحبان نے دوسری نادانی یہ کی کہ فوراً اس کے حلال و حرام کا فتویٰ دینے لگے۔ بعد کے علما نے دیکھا کہ اس معاملہ میں اصحاب فقہ کے درمیان اختلاف ہے تو انھوں نے تیسری نادانی کی۔ انھوں نے کہا کہ چوں کہ جھینگا کچھ علما کے نزدیک حرام ہے، اور کچھ دوسرے علما اس کو حلال بتاتے ہیں، کیوں کہ اس کو مچھلی کہا جاتا ہے، اس لئے احتیاط یہ کہ اس کو نہ کھایا جائے (الدو د الذي يقال له جھينگه حرام عند بعض العلماء۔ وقال بعضهم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader