آغازِ کلام
Urdu book, p. 166
By Maulana Wahiduddin Khan
حلال لانۂ یسّمّی باسم السّمّک ۔ فالا احتیاط ان لا یؤکل ، حاشیہ جلالین ، پاره ۷) فقہ اور فتاویٰ کی کتابوں میں اس قسم کے بے شمار مسائل ہیں۔ مگر وہ سب کے سب لغویت کی حد تک غلط ہیں۔ جن چیزوں کو خدا اور رسول نے حرام نہ کیا ہو، ان کو حرام کہنا ایسی جسارت ہے جس کے لئے دین میں کوئی گنجائش نہیں۔ صحابہ و تابعین کے زمانہ میں اس طرح حرام و حلال کی بحثیں نہیں کی جاتی تھیں۔ بعد کے علماء ہر معاملہ میں حرام و حلال کی بحثیں کرنے لگے۔ یہ عین وہی غلطی ہے جس میں یہود مبتلا ہوئے۔ ۲۱ ستمبر ۱۹۸۹ چودھری دیوی لال ہریانہ کے چیف منسٹر ہیں۔ وہ ۲۵ ستمبر ۱۹۱۴ کو پیدا ہوئے۔ اس مناسبت سے ۲۵ ستمبر کو ان کے بارہ میں ایک کتاب چھاپی جارہی ہے۔ ان کے ایک ساتھی مسٹر ویسیو احمد (3011055) میرے پاس آئے اور بار بار ٹیلی فون پر تقاضا کیا کہ میں اس کتاب کے لئے ایک پیغام لکھ کر دے دوں۔ پہلے میں نے معذرت کی۔ آخر ان کے اصرار پر حسب ذیل تحریر لکھ کر دے دی۔ چودھری دیوی لال ۱۹۱۴ میں پیدا ہوئے۔ ان کی اصل زبان اردو ہے۔ وہ اردو ہی میں اپنا تمام لکھنے پڑھنے کا کام کرتے ہیں۔ اس طرح چودھری دیوی لال کالیوم پیدائش ہندوستان کی تاریخ کے ایک اہم باب کو بتاتا ہے۔ وہ اس قیمتی زمانہ کی یاد دلاتا ہے جبکہ اس ملک کی عام زبان اردو تھی۔ سب لوگ اردو میں لکھتے اور بولتے تھے، خواہ وہ ایک فرقہ کے ہوں یا دوسرے فرقہ کے۔ دیوی لال جیسے لوگوں کی موجودگی بتاتی ہے کہ اس ماضی کا تسلسل ابھی ملک میں باقی ہے۔ میری تمنا ہے کہ یہ تسلسل مزید باقی رہے۔ یہاں تک کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرائے۔ ماضی اور حال کے سرے دوبارہ مل کر نیا مستقبل پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائیں۔ ۲۲ ستمبر ۱۹۸۹ پاکستان کے مشہور اخبار نوائے وقت کے زیرِ اہتمام شعبہ الوان وقت (کراچی) میں ایک مجلس مذاکرہ منعقد ہوئی۔ اس کا موضوع تھا: نظریہ پاکستان اور آج کا پاکستان ۔ ہم سے کیا غلطیاں سرزد ہوئیں؟ اس موقع پر جو تقریریں ہوئیں وہ نوائے وقت کی خصوصی اشاعت (۱۵ ستمبر ۱۹۸۹) میں شائع ہوئی ہیں۔ ایک تقریر کا جلی عنوان یہ ہے: نظریہ پاکستان اب صرف نعرہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader