آغازِ کلام
Urdu book, p. 167
By Maulana Wahiduddin Khan
بن رہ گیا ہے۔ اس عنوان میں میں صرف ایک معمولی لفظی ترمیم کروں گا " نظریہ پاکستان صرف ایک نعرہ تھا۔ مجھے تعجب ہے کہ پاکستان کے تمام اسلام پسند اور اسلامی منکوون نصف صدی سے ایک جھوٹے لفظ میں جی رہے ہیں، اور وہ نظریہ پاکستان" کا لفظ ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نظریہ پاکستان کا کہیں کوئی وجود نہیں۔ جس چیز کا وجود تھا یا ہے وہ صرف "نعرہ پاکستان" ہے۔ سیاسی لیڈر ہمیشہ یہی کرتے ہیں کہ وہ نعرہ کو نظریہ کے روپ میں پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ نام نہاد نظریہ پاکستان کی طرح ہر تحریک کا ایک نظریہ رہا ہے۔ مثلاً گاندھی کا ایک نظریہ ہند تھا، شیخ مجیب کا ایک نظریہ بنگلہ دیش تھا، وغیرہ۔ مگر اس طرح کے نظریات سے صرف سیاسی تبدیلیاں ہوا کرتی ہیں۔ ان کے ذریعہ کبھی کوئی سماجی نظام نہیں بنتا۔ یہی وجہ ہے کہ نظریہ ہند اور نظریہ بنگلہ دیش کی طرح نظریہ پاکستان بھی سراسر ناکام ثابت ہوا۔ ۲۳ ستمبر ۱۹۸۹ کچھ اہل حدیث حضرات ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم الرسالہ کے قاری ہیں۔ مگر آپ اپنے رسالہ میں فقہی مسائل پر کچھ نہیں لکھتے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ رفع یدین اور آمین بالجہر، اور آمین بالسریع جیسے مسائل پر الرسالہ میں کچھ نہیں ہوتا۔ میں نے کہا کہ زور اور تاکید کی چیزیں اساسات دین ہیں نہ کہ فروعات دین۔ حدیث میں آیا ہے کہ انما الاعمال بالنیات ۔ ایسی کوئی حدیث نہیں جس کے الفاظ یہ ہوں کہ انما الاعمال بالمساثل ۔ یہ (Shift of emphasis) ہے کہ لوگ اساسی باتوں پر زور دینے کے بجائے فرعی باتوں کی دھوم مچانے لگیں۔ ۲۲ ستمبر ۱۹۸۹ ایک مجلس میں میں نے کہا کہ دین کا خلاصہ دو چیزیں ہیں۔ اللہ کا ڈر، اور بندوں کے ساتھ حسن عمل ۔ ایک صاحب نے کہا کہ یہ مفہوم آپ نے کہاں سے نکالا۔ میں نے کہا کہ یہ مفہوم قرآن وحدیث میں مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ مثلاً ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ وہ کون سے مرحلہ لوگوں کو بہت زیادہ جنت میں لے جائے گا۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader