آغازِ کلام
Urdu book, p. 168
By Maulana Wahiduddin Khan
تقویٰ اور حسن اخلاق (سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أكثر ما يدخل الناس الجنة قال : تقوى الله وحسن الخلق ، سنن الترمذی) موجودہ عرب تہذیب کا ایک جز تسبیح بھی ہے۔ اکثر عربوں کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی تسبیح ہوتی ہے جس کو وہ انگلیوں کے درمیان گھماتا رہتا ہے۔ گفتگو یا اور کوئی چیز اس کے لئے اس کام میں حارج نہیں ہوتی ۔ ایک ہندوستانی عالم نے بتایا کہ انھوں نے خلیج کے ایک سفر میں ایک عرب شیخ سے تسبیح کی اس گردش کے بارے میں پوچھا۔ عرب شیخ نے جواب دیا کہ یہ کوئی عمل نہیں۔ خدا کی قسم یہ تو صرف ایک کھلونا ہے (واللہ ان هذا للعبة ) ہندوستانی عالم نے یہ قصہ بتاتے ہوئے کہا کہ اس کو الرسالہ میں نہ لکھئے گا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان کے موجودہ علماء کی اخلاقی حالت کیا ہے۔ وہ ہندوستان میں تنقید و احتساب کے شہنشاہ بنے ہوئے ہیں۔ گر عرب حکام یا عرب شیوخ کے خلاف بولنا ہو تو ان کی زبان گنگ ہو جاتی ہے۔ ہندوستان میں وہ محتسب کا ئنات سے کم کسی چیز پر راضی نہیں۔ مگر عرب دنیا میں وہ محتسب فرد بننے کی جرأت بھی نہیں کر سکتے۔ ۲۶ ستمبر ۱۹۸۹ کچھ مسلمان ملاقات کے لئے آئے۔ ان سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان لیڈر ، خواہ وہ داڑھی والے ہوں یا بے داڑھی والے۔ سب کے سب اپوزیشن کی بولی بولتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی نہیں جو خدا اور رسول کی بولی بولنا جانتا ہو۔ ۲۷ ستمبر ۱۹۸۹ ایک صاحب ملاقات کے لئے آئے۔ ان کے چہرہ پر بہت چھوٹی داڑھی تھی۔ انھوں نے کہا کہ پہلے میں بڑی داڑھی رکھتا تھا۔ پھر میں نے دیکھا کہ "اعفا اللحية " کا حکم صرف حدیث میں ہے۔ قرآن میں نہیں ہے۔ اس لئے میں نے اپنی داڑھی چھوٹی کرالی۔ میں نے کہا کہ میں قرآن وحدیث کی اس تفریق کو صحیح نہیں سمجھتا۔ تاہم اس سے قطع نظر ، خود قرآن میں "اعفا اللحية " کی آیت موجود ہے ۔ حضرت موسیٰ کے قصہ میں بہت سا آگئے کے بحث ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader