Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

کی پرستش پر حضرت موسیٰ نے باز پرس کی تو انہوں نے دورانِ کلام حضرت ہارون کی داڑھی پکڑی۔ اس پر حضرت ہارون نے فرمایا: لا تاخذ بلحیتی ولا برأسی (طہ ۹۲) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہارون کی داڑھی آپ کی طرح نہیں تھی، بلکہ بڑی تھی۔ کیوں کہ بڑی داڑھی ہی پکڑی جاسکتی ہے۔ چھوٹی داڑھی ہاتھ میں نہیں آئے گی، پھر اس کو پکڑا کیسے جاسکتا ہے۔ حضرت ہارون کے متعلق معلوم ہے کہ وہ پیغمبر تھے۔ قرآن کی تصدیق کے بعد ان کا اسوہ بھی ہمارے لئے قابلِ تقلید بن جاتا ہے۔ ۲۸ ستمبر ۱۹۸۹ کافر کی یہ تعریف کہ آفاق میں گم ہے مومن کی یہ تعریف گم اس میں ہے آفاق اقبال نے جب اپنا یہ شعر مسلمانوں کے سامنے پیش کیا تو ہر طرف واہ وا کی دھوم مچ گئی۔ فوراً ہی اقبال مسلمانوں کے مقبول ترین شاعر بن گئے۔ اس کے برعکس اگر آپ مسلمانوں کے سامنے یہ کہیں کہ ”کا فر اللہ سے نہیں ڈرتا، مومن وہ ہے جو اللہ سے ڈرے تو کسی طرف سے بھی واہ وا کا شور بلند نہیں ہوگا اس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ شعر فخر پر مبنی ہے اور دوسرا جملہ تواضع پر۔ پر فخر کلمات پر واہ وا بلند کی جاسکتی ہے مگر تواضع کے الفاظ پر واہ وا کا شور بلند ہونے کے کوئی معنی نہیں۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ تعمیر ذہن کیا ہے، اور موجودہ زمانہ میں مسلم رہنمائوں نے جو کچھ کیا وہ کیوں تعمیر ذہن کی کوشش نہ تھی۔ یہ رہنمایانِ اشعار اور تقریروں اور انشا پرداز انہ مضامین میں مذکورہ شعر جیسی باتیں کہتے رہے ہیں۔ یہ باتیں مسلمانوں کے اندر فخر کی نفسیات ابھارتی رہیں. مگر فخر کی نفسیات ابھارنے کا نام ذہنی تربیت نہیں۔ ذہنی تربیت یہ ہے کہ آدمی کے اندر تواضع سنجیدگی اور حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کیا جائے، اور وہ موجودہ رہنمائوں نے کیا ہی نہیں۔ ۲۹ ستمبر ۱۹۸۹ ہندوستان میں فیملی پلاننگ پر اربوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔ پہلے حکومت کا نعرہ تھا: دو یا تین بس۔ اس کے بعد نعرہ دیا گیا : ہم دو ہمارے دو۔ موجودہ نعرہ ہے : ایک میں ایک۔ آخری نعرہ غالباً یہ ہوگا کہ ایک یا کوئی نہیں ! One or None

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page