آغازِ کلام
Urdu book, p. 170
By Maulana Wahiduddin Khan
اس طرح حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ اس ملک کا اصل مسئلہ یہاں کی بڑھی ہوئی آبادی ہے۔ مگر یہ مغالطہ ہے۔ اس ملک کا اصل مسئلہ خود حکومت کا کرپشن ہے۔ حکومت میں نیچے سے اوپر تک کرپشن (ہر رشناچاپ) اپنی آخری حد تک پھیل چکا ہے۔ اس ملک کے مسائل صرف اس وقت ختم ہوں گے جب کہ اس ملک سے کرپشن کا خاتمہ کیا جائے۔ ورنہ آبادی گھٹنے گھٹے اگر اتنی کم ہو کہ یہاں صرف دو آدمی رہ جائیں تو وہ بھی اپنے بگڑے ہوئے مزاج کے تحت فساد کے سوا کوئی اور کارنامہ انجام نہیں دے سکیں گے۔ ۳۰ ستمبر ۱۹۸۹ ۲۰ ستمبر کو میں ٹرانزٹ پیسنجر کے طور پر کراچی میں تھا۔ وہاں میری ملاقات ایک تاجر سے ہوئی انھوں نے کہا کہ ہندوستان کے مقابلہ میں پاکستان بہت چھوٹا ملک ہے۔ اس کے نتیجہ میں ہمارے تجارتی مواقع بہت کم ہیں۔ کیوں کہ ہمیں اپنی پیدا وار کو فروخت کرنے کے لئے مقابلہ بہت چھوٹا مارکیٹ ملتا ہے۔ اس کے بجائے ہندوستان میں تجارتی مواقع بہت زیادہ ہیں۔ کیوں کہ وہاں ایک صنعت کار کے لئے بہت بڑا مارکیٹ موجود ہے۔ مسلم رہنماؤں کے اندر اگر دعوتی ذہن ہوتا تو یہی بات وہ دعوتی اعتبار سے سوچتے۔ ہندوستان کی تقسیم نے ملک کو تین حصوں میں بانٹ دیا۔ اور اگر پورے برٹش انڈیا کو لیا جائے تو تو تقریبا دس ملکوں میں (انڈیا ، پاکستان ، بنگلہ دیش ، نیپال ، بھوٹان ، تبت ، سری لنکا ، وغیرہ)۔ اس کے نتیجہ میں دعوتی میدان محدود ہوگیا۔ اگر ملک تقسیم نہ کیا جاتا، تو پورا برصغیر ہند ایک ملک ہوتا اور پھر ہم کو ایک وسیع برا اعظم میں دعوتی کام کے مواقع بلا روک ٹوک حاصل رہتے۔ مگر مسلم لیڈروں میں دعوت کا اتنا بھی درد نہ تھا جتنا ایک تاجر کے اندر اپنی تجارت کے لئے ہوتا ہے۔ وہ کوئی نیا دعوتی میدان تو پیدا نہ کر سکے۔ البتہ جو دعوتی میدان ان کی کوششوں کے بغیر اپنے آپ موجود تھا ، اس کو بھی انھوں نے برباد کر ڈالا۔ یکم اکتوبر ۱۹۸۹ سرسید احمد خاں نے اپنے رسالہ تہذیب الاخلاق میں خلافت راشدہ کے متعلق ایک مضمون چھاپا۔ اس مضمون کے بین السطور سے کچھ اس طرح کا مطلب نکلتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader