آغازِ کلام
Urdu book, p. 171
By Maulana Wahiduddin Khan
علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت علی کو خلافت ملنا چاہیئے تھا۔ بنارس کے ایک شیعہ عالم اس مضمون کو پڑھ کر بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے مذکورہ پرچہ لیا اور سفر کر کے علی گڑھ پہنچے۔ شیعہ عالم نے سرسید کے مضمون کی بہت تعریف کی اور پھر ایک نازک سوال کر دیا: 'اگر آپ حضور اکرم کی وفات کے وقت موجود ہوتے تو آپ خلافت کے لئے ابو بکر کی تائید کرتے یا علی کی۔' اس وقت مجلس میں مذکورہ شیعہ کے علاوہ بعض سنی بھی موجود تھے۔ سرسید اگر خلیفہ کے منصب کے لئے ابو بکر کا نام لیں تو شیعہ عالم سے ٹھہراؤ ہوتا اور اگر علی کا نام لیں تو سنی عالم سے۔ سرسید نے ایک لمحہ سوچا اور پھر بولے : 'اجی حضرت، میں ان کی ان کی تائید کیوں کرنے چلا۔ میں خود اپنی خلافت کا ڈول ڈالتا۔ کیا ایسا گولڈن چانس دوسروں کے لئے چھوڑ دیتا۔' ایسے نازک موقع پر بہترین طریقہ یہی ہے کہ ایسا جواب دیا جائے کہ پوری بات تفرقع میں ختم ہو جائے ۔ ۲ اکتوبر ۱۹۸۹ سید حامد (I.A.S) نئی دہلی کی مرکزی حکومت میں ایڈیشنل سکریٹری تھے۔ اس کے بعد وہ علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بنے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ دہلی کی مرکزی حکومت میں کوئی ۴۲ سکریٹری ہیں۔ ان پر پورے ہندوستان کی حکومت کا دار و مدار ہے۔ ان کی سرکاری مصروفیت کا یہ حال ہے کہ لوگوں کو ان سے ملاقات کرنے کے لئے بسا اوقات پندرہ پندرہ دن تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ مگر میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ ان کے تعلیمی شعور کا یہ حال ہے کہ شام کو آفس سے فرصت ملی اور میاں بیوی دونوں اپنے بچوں کی تعلیم اور ہوم ورک میں مدد دینے کے لئے بیٹھ گئے اور گھنٹہ دو گھنٹہ تک اپنے زیر تعلیم بچوں کی تیاری کراتے رہے۔ تعلیم کے بارے میں ہندو قوم کی یہی باشعوری ہے جس نے اس کو مسلمانوں سے آگے کر رکھا ہے۔ نہ کہ مفروضہ تعصب اور سازش۔ مسلمانوں کی پس ماندگی کو اسی قسم کی تعلیمی محنت کے ذریعہ ختم کیا جا سکتا ہے نہ کہ نعرہ یاد اور مطالبات کے ذریعہ۔ سعودی تعاون سے ایک عربی ہفت روزہ نکلتا ہے جس کا نام المجلہ ہے۔ اس کا کیپٹانس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader