Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

لندن میں ہے، اس کے شمارہ ۱۳ اکتوبر ۱۹۸۹ (۲۳ ربیع الاول ۱۴۱۰ھ) میں ایک اسرائیلی صحافی کی کتاب (عدوی نفسی) کا تعارف چھپا ہے: Yor am Binur, My Enemy, My Self, London 1989 کتاب کا یہودی مصنف یورام بینور نہایت عمدہ عربی جانتا ہے اور بالکل عربوں کی طرح عربی زبان بولتا ہے۔ چنانچہ وہ فلسطینیوں کی بستی میں برسوں تک رہا۔ ان کے بارہ میں اندر سے واقفیت حاصل کی۔ اس کے بعد اس نے یہ کتاب لکھی۔ دوسری قوموں میں کثرت سے ایسی مثالیں موجود ہیں۔ مگر آج مسلمانوں میں ایسا کوئی شخص موجود نہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان ہر معاملہ میں دوسری قوموں سے پیچھے ہوگئے ہیں۔ جھوٹے فخر کے سوا اور کوئی سرمایہ ان کے پاس موجود نہیں۔ ۴ اکتوبر ۱۹۸۹ کچھ سال پہلے لکھنؤ کی دیواروں پر اردو زبان کے خلاف اس مضمون کے ہندی پوسٹر لگائے گئے تھے؛ جس بھاشا نے دیش کو بانٹا، اس بھاشا کو دیش سے نکالو (ٹائمز آف انڈیا ۴ اکتوبر ۱۹۸۹)، مگر آج اسی ریاست یوپی میں اردو کو سکینڈ لیسگوئج کا درجہ قانونی طور پر دیدیا گیا ہے۔ ۳ اکتوبر کو اتر پردیش لیملیٹو کونسل نے بی جے پی کی زبردست مخالفت کے باوجود اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے سے متعلق سرکاری زبان ترمیمی بل ۱۹۸۹ء کی منظوری دیدی۔ بی جے پی ممبروں نے اس کے قانونی جواز کو چیلنج کیا۔ اس کے بعد تین ممبراردو کے خلاف نعرہ لگاتے ہوئے ایوان کے پیچ میں پہنچ گئے۔ اس پر چیئرمین نے مارشلوں کو حکم دیا اور انہوں نے تینوں ممبروں کو اٹھاکر باہر پھینک دیا۔ یہ ممبر اردو مرده باد' اور 'ایک راجیہ بھاشا نہیں چاہئے دوسری بھاشا' کا نعرہ لگاتے ہوئے باہر نکلے۔ (قومی آواز ۴ اکتوبر ۱۹۸۹) اتر پردیش میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ ملنا صرف ایک عطیہ نہیں وہ ایک " ذمہ داری ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ اردو میں اعلیٰ لٹریچر تیار کرکے اردو کی عمومی انسانی افادیت ثابت کریں۔ اگلے چند برسوں میں اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو صرف مذکورہ قسم کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page