آغازِ کلام
Urdu book, p. 173
By Maulana Wahiduddin Khan
قانون اردو کے لئے زندگی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ دوسروں کا ظلم وتصب نہیں ہے۔ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں انہوں نے فیض رسانی کی صلاحیت کھودی ہے ۔ وہ ہر جگہ Receiving end پر ہیں۔ حال میں میں نے لیبین ایئرلائنز سے سفر کیا تو معلوم ہوا کہ لیبین ایئرلائنز انتہائی خستہ حالت میں ہے۔ اس کے پاس نہ جہاز ہیں اور نہ فاضل پرزے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ امریکہ نے لیبیا کو جہاز کی سپلائی بند کر دی ہے۔ دوسری طرف سعودی ایئرلائنز نہایت نے انداز سے کیوں کہ اس پر امریکہ کی عنایتیں ہیں۔ افغانستان میں امریکہ نے ہتھیار دیا تو افغانی مجاہدین نے روسیوں کو مار بھگایا۔ فلسطین میں امریکہ ہتھیار نہیں دیتا تو وہاں سارا عالم اسلام عاجز ثابت ہورہا ہے۔ پاکستان کو امریکہ نے اپنی سر پرستی میں لے رکھا ہے تو وہاں خوش حال ہے۔ بنگلہ دیش کو امریکہ نے نظر انداز کر دیا ہے تو وہ بد ترین بد حالی کا شکار ہو رہا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ ۶ اکتوبر ۱۹۸۹ مولاناعبدالخالق صاحب رائے برٹلی کے ایک حنفی عالم تھے۔ انھوں نے فتح الموحد کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ یہ کتاب ستمبر ۱۹۰۲ میں انوری پریس لکھنؤ سے شائع ہوئی۔ اس کتاب میں "میلاد النبی" کے رواج کو سراسر بدعت (محدث فی الدین) کہا گیا ہے۔ اور اس موضوع پر تاریخی حوالوں کے ذریعہ مدلل گفتگو کی گئی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں میلاد النبی کی مجالس کا مطلق رواج نہ تھا۔ یہ چھ سو سال بعد شروع ہوا۔ موصل کے ایک مجہول الاحوال شخص عمر بن محمد نے ۶۰۴ میں پہلی بار مولد رسول کے نام سے اس قسم کی مجلس منعقد کی۔ اس کے بعد سلطان المظفر السعید کو کری نے اس کی تقلید کی۔ وہ اربل کا حاکم تھا جو موصل کے قریب ایک تاریخی شہر ہے۔ اس طرح یہ بدعت عراق سے شروع ہوئی اور پھر ہر جگہ پھیل گئی۔ میلاد کے جشن اور جلسہ جلوس اور تقریبات کا بدعت ہونا ایک ثابت شدہ امر ہے۔ یہی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader