آغازِ کلام
Urdu book, p. 174
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث سے ثابت ہے کہ ہر بدعت ضلالت ہے۔ اس طرح کی سیکڑوں بدعتیں آج مسلمانوں میں رائج ہیں۔ کوئی بھی رہنما ان کو ختم کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ ایسی حالت میں کیوں کر ممکن ہے کہ موجودہ مسلمان اللہ کی رحمت و نصرت کے مستحق قرار پائیں۔ ۷ اکتوبر ۱۹۸۹ مشہور فلم ایکٹر دلیپ کمار (محمد یوسف) نے اپنی پوری زندگی فلمی دنیا میں گزاری۔ مگر اپنی ذاتی زندگی میں وہ ایک پاکباز آدمی ہیں۔ حاسدین کے پروپیگنڈے کی تردید کرتے ہوئے دلیپ کمار نے کہا کہ ”میں ایک سنی عقیدہ مسلمان ہوں۔ میں نے اپنی زندگی میں کبھی شراب نہیں پی۔ نماز پابندی سے ادا کرتا ہوں۔ خیرات زکوٰۃ برابر ادا کرتا ہوں۔ اسلام کی راہ میں اپنا جان و مال ہر وقت قربان کرنے کو تیار رہتا ہوں (وفاق یکم اکتوبر ۱۹۸۹) واقف کاروں کے بیان کے مطابق، دلیپ کمار (محمد یوسف) کے الفاظ بالکل درست ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ بالعموم ”سیکولر“ لوگ نام نہاد دینی لوگوں کے مقابلے میں سیرت و کردار کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ سیکولر لوگوں کا ضمیر انہیں ملامت کرتا رہتا ہے کہ تم غلطی پر ہو۔ یہ احساس ان کے لئے ایک قسم کا دینی اور اخلاقی محرک بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس معروف دینی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم تو دیندار ہیں۔ ان کا یہ احساس ان کے اندر قساوت پیدا کر دیتا ہے اور وہ گناہ کے ارتکاب میں زیادہ جری ہو جاتے ہیں۔ مشہور صوفی اور عالم جامی (۱۴۹۲-۱۴۱۴ء) کا ایک شعر ہے جو غالباً اسی صورتحال سے تعلق رکھتا ہے: بہ قمار خانہ رفتم ہمہ پاکباز دیدم چو بہ صومعہ رسیدم ہمہ یافتم دغائی پاکستان بننے کے بعد مسٹر محمد علی جناح نے ۱۳ جنوری ۱۹۴۸ کو اسلامیہ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے کہا: ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا تھا، بلکہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader