Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 175

By Maulana Wahiduddin Khan

پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے دوبارہ ۱۴ جنوری ۱۹۴۸ کو اسلامیہ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے اس بات کو دہرایا اور کہا: ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک قطعہ زمین حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا تھا۔ بلکہ ہم لوگ ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے جہاں اسلام کے اصول کو آزما سکیں (نوائے وقت، لاہور، یکم اکتوبر) یہی بات مسٹر جناح سے لے کر مولانا ابوالاعلیٰ مودودی تک تمام پاکستانی مسلمان کہتے رہے ہیں۔ مگر یہ عین وہی چیز ہے جس کو انگریزی مثل میں گاڑی کو گھوڑے کے آگے باندھنا کہا گیا ہے: putting the cart before the horse اسلامی اصولوں کے نفاذ کی صحیح ترتیب یہ ہے کہ پہلے افراد کے اندر ذہنی تبدیلی اور قلبی آمادگی پیدا کی جائے۔ اس کے بعد ہی کسی ملک میں اسلامی اصول کا عملی نفاذ کیا جا سکتا ہے۔ پہلے قطعہ زمین حاصل کرو، اس کے بعد اسلامی نظام نافذ کرو، یہ جملہ گرامر کے لحاظ سے صحیح مگر حقیقت کے اعتبار سے سراسر غلط ہے۔ وہ احمقانہ حد تک بے معنی ہے۔ یہ الٹی ترتیب ہے جو موجودہ دنیا میں کبھی بھی واقعہ نہیں بن سکتی۔ ۱۹ اکتوبر ۱۹۸۹ ہجرت دعوت کا مرحلہ نہیں، ہجرت نبوت کا مرحلہ ہے۔ یہ اس سنت کا ایک حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبیوں کے لئے مقرر کیا ہے۔ نبی جب کسی قوم میں دعوت دیتا ہے، اور اپنی دعوت کو اتمام حجت کے مرحلہ تک پہنچا دیتا ہے تو اس کے بعد وہ قوم عذاب کی مستحق ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد براہ راست خدا کے حکم کے تحت نبی اپنی قوم کو چھوڑ کر باہر چلا جاتا ہے۔ تاکہ خدا کا عذاب آئے اور منکر قوم ہلاک کر دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ نبیوں نے، ہمیشہ، ہجرت کی ہے مگر عام داعیوں نے کبھی اس طرح ہجرت نہیں کی۔ ۲۰ اکتوبر ۱۹۸۹ حسان بن ثابت الانصاری کی بابت کچھ عرب ناقدوں نے کہا ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد حسان کی شاعری کمزور پڑ گئی۔ حالاں کہ اسلام میں داخل ہونے سے پہلے ان کے اشعار نہایت طاقت ور اور اکثر تر تھے (ان شعراء ان قد ضعیف فی الاسلام وکان فحلاً فی الجاهليّة

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page