Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 176

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے حسان بن ثابت کے دونوں زمانوں کے اشعار کا تقابلی مطالعہ نہیں کیا ہے۔ تاہم اگر یہ صحیح ہو تو اس سے اسلام پر کوئی حرف نہیں آتا۔ اسلام ایک سائنٹفک مذہب ہے۔ وہ آدمی کے اندر سنجیدگی اور حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کرتا ہے، اس لئے اگر اسلام میں داخل ہونے کے بعد کسی شاعر کی شاعری کمزور پڑ جائے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ ۱۱ اکتوبر ۱۹۸۹ء بابری مسجد کو مسلمان صحیح نظر لفظ میں مسلم لیڈر، مقامی حیثیت سے لیتے اور اس کے لئے خاموش جدوجہد کرتے تو اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوتا۔ مگر مسلمانوں نے اس کو پورے ملک میں شور و غل کا مسئلہ بنایا۔ اس کے ردعمل میں ہندو فرقہ واریت بہت بڑے پیمانے پر جاگ اٹھی۔ ہریانہ کے ایک بھٹہ چلانے والے ہندو نے پچاس لاکھ اینٹیں بنوائیں۔ ہر اینٹ پر "شری رام" لکھا ہوا تھا۔ ان اینٹوں کو اس ہندو نے رام جنم بھومی کی تعمیر کے لئے مفت دے دیا۔ اب وشو ہندو پریشد وغیرہ جماعتوں نے یہ کیا کہ ان اینٹوں کو گاڑیوں میں رکھ کر سارے ہندوستان میں گھمانا شروع کیا۔ اس کا نام "رام شیلیا" یعنی رام کی اینٹیں رکھ دیا گیا۔ ہندوؤں نے ان اینٹوں کے نام پر کروڑوں روپے نذر کئے، ٹائمز آف انڈیا (۱۰ اکتوبر ۱۹۸۹) کے صف اول پر ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ رام شیلیا پوجن بنیادی طور پر ایک وسیلہ ہے جس کے ذریعہ ہندوؤں میں ہندو ہونے کا سویا ہوا فخر جگایا جا رہا ہے: The Ram Shila pujan samaroh is basically a channel through which the "slumbering pride" in being a Hindu is attempted to be aroused. ہندوؤں کے سوئے ہوئے فخر کو جگانے کی اصل ذمہ داری نام نہاد مسلم لیڈروں پر ہے جنہوں نے بابری مسجد کے نام پر سارے ملک میں ہنگامہ کھڑا کیا۔ یہ ایک رد عمل ہے مسلمانوں کے عمل کا۔ بابری مسجد تو مسلمانوں کو ملی نہیں، البتہ ایک نیا شدید تر مسئلہ ان کے خلاف کھڑا ہو گیا۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان جھوٹے لیڈروں سے قوم کو کب نجات ملے گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page