آغازِ کلام
Urdu book, p. 177
By Maulana Wahiduddin Khan
ندوہ (لکھنؤ) کے تین طالب علم ملاقات کے لئے آئے۔ ان میں سے ایک محمد یسین مالیگاؤں تھے جو شبلی ہاسٹل میں رہتے ہیں۔ یہ ہاسٹل لکھنؤ یونیورسٹی کے ہاسٹل سے ملا ہوا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ رات کو جب لائٹ چلی جاتی ہے تو یونیورسٹی کے لڑکے اپنی چھتوں پر چڑھ جاتے ہیں اور ندوہ والوں کو برا بھلا کہتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیا الفاظ کہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ بالکل فحش گالی ہوتی ہے جس کو ہم اپنی زبان سے ادا نہیں کر سکتے۔ شبلی ہاسٹل کی دیوار اور یونیورسٹی ہاسٹل کی دیوار میں تقریباً ۴۰ فٹ کا فاصلہ ہے۔ ذی قعدہ ۱۴۰۹ھ میں ایک روز ایسا ہی ہوا۔ ندوہ کے کچھ لڑکے اپنی چھت پر چڑھ کر ان کا جواب دینے لگے۔ اس سے شدت پیدا ہوئی اور یونیورسٹی کے لڑکوں نے باقاعدہ پتھر پھینکنے شروع کئے۔ کچھ پتھر ایک استاد مولانا محمد خالد کے گھر میں گرے جو پاس ہی رہتے ہیں۔ گھر کی کا شیشہ ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد مولانا محمد رابع حسنی اور ڈاکٹر عبداللہ عباس ندوی وغیرہ آئے۔ مولانا رابع صاحب نے تقریباً پندرہ منٹ تک ندوہ کے لڑکوں کو سمجھایا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ آپ لوگ ہرگز جوابی اشتعال نہ دکھائیں۔ اپنے اپنے کمروں میں رہیں وہ چلاتے چلاتے اپنے آپ خاموش ہو جائیں گے۔ آپ لوگ ہر حال میں سکون سے رہے اور رد عمل مت ظاہر کیجئے۔ کیسے عجیب ہیں ندوہ کے لوگ۔ وہ الرسالہ کے بارہ میں کہتے ہیں کہ الرسالہ مسلمانوں کو بز دلی سکھاتا ہے۔ اور خود اپنے ذاتی معاملہ میں عین الرسالہ کے مسلک پر عمل کر رہے ہیں۔ عوامی جلسہ میں وہ جہاد پر تقریر پر کرتے ہیں اور جہاں اپنی ذات زد میں ہو وہاں صبر و تحمل کی تلقین کر رہے ہیں (ملاحظہ ہو، تعمیر حیات ۱۰ اگست ۱۹۸۸ء، صفحہ ۳) ۱۲ اکتوبر ۱۹۸۹ گورکھپور کے ایک صاحب تشریف لائے۔ وہ تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں سافنوں نے اپنے اور دوسروں کے کئی تبلیغی تجربات بتائے۔ مثلاً ایک انجینئر صاحب کا قصہ بتایا جو انھوں نے خود بیان کیا تھا۔ انجینئر صاحب نے ان سے بتایا کہ میں ایک بار ایک جماعت کے کر فلاں مقام پر گیا۔ وہاں ہم لوگ ایک مسجد میں ٹھہرے یہ مسجد بدعتیوں کے محلہ میں تھی۔ وہ لوگ جماعت کو دیکھ کر بگڑ گئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader