Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 178

By Maulana Wahiduddin Khan

ہمارے سامان اور اسٹوو وغیرہ کو باہر پھینک دیا اور ہم کو مسجد سے باہر نکال دیا۔ مگر ہم لوگ ان سے ٹکرائے نہیں۔ ہم ان کے لئے دعائیں کرتے رہے۔ یہاں تک کہ شام کو ایک شخص کو رحم آیا۔ وہ ہم کو دوبارہ مسجد میں لے گیا۔ ہم لوگ چند دن وہاں رہے اور خاموشی اور حکمت کے ساتھ ان کی تعلیم کرتے رہے۔ انجینئر صاحب نے انہیں بتایا کہ اس واقعہ کے پانچ سال بعد ایک سفر کے دوران میری ملاقات ایک شخص سے ہوئی تعارف کے بعد میں نے وہاں کا حال پوچھا۔ اس نے کہا کہ صاحب آپ کا ہمارے یہاں آنا ہمارے لئے بہت بابرکت ثابت ہوا۔ وقتی طور پر کچھ لوگ مخالف ہوگئے تھے۔ مگر آپ نے جو بیج ڈالا تھا وہ بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ آج وہ شاداب درخت بن چکا ہے۔ بہت سے لوگ بدعت سے توبہ کرکے تبلیغ کے ساتھ جڑ گئے ہیں، وغیرہ مذکورہ تبلیغی بزرگ نے اس کے بعد الرسالہ کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے سفر نامہ میں خود ستائی ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ سفر نامہ میں جو چیز ہوتی ہے وہ خود ستائی نہیں، بیان واقعہ ہے۔ وہ ایسا ہی ہے جیسے آپ نے مذکورہ انجینئر صاحب کی بات نقل کی۔ سفر نامہ میں الرساله یا مطبوعات الرساله کے بارے میں کسی کا تاثر نقل کیا جاتا ہے۔ اس کو آپ خود ستائی کہتے ہیں۔ مگر اسی قسم کا تاثر انجینئر صاحب نے نقل کیا تو آپ کو وہ خود ستائی محسوس نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انجینئر صاحب نے جو بات کہی اس کو آپ نے تبلیغی مشن کے خانہ میں ڈال دیا۔ اور میں نے الرساله میں اسی قسم کی جو بات درج کی اس کو آپ میری ذات کے خانہ میں ڈال رہے ہیں۔ حالاں کہ جس طرح تبلیغ ایک مشن ہے اسی طرح الرساله بھی ایک مشن ہے۔ اگر آپ سفر نامہ میں درج شدہ واقعہ کو الرساله مشن کے خانہ میں ڈال دیں تو وہ آپ کو خود ستائی نہ دکھائی دے۔ بلکہ وہ آپ کو الرساله مشن کی رفتار کار دکھائی دینے لگے، جس طرح انجینئر صاحب کی بات آپ کو خود ستائی کے بجائے تبلیغی مشن کی رفتار کار نظر آرہی ہے۔ محمد ہاشم قاسمی صاحب (حیدر آباد) جنھوں نے ہمارے ساتھ غصب اور خیانت کا معاملہ کیا ہے۔ وہ اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لئے راقم الحروف کو بدنام کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔ حال میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page