آغازِ کلام
Urdu book, p. 179
By Maulana Wahiduddin Khan
انھوں نے ایک ہینڈ بل چھاپ کر تقسیم کیا ہے۔ اس میں میرے متعلق بہت سی جھوٹی اور بے بنیاد باتیں کہی گئی ہیں۔ ایک صاحب اس ہینڈ بل کو پڑھنے کے بعد مجھ سے ملے۔ انھوں نے پر جوش طور پر کہا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ بابری مسجد ہندوؤں کے حوالے کر دینا چاہئے۔ میں نے پوچھا کہ یہ آپ نے کیسے جانا۔ انھوں نے کہا کہ دیکھئے ، اس ہینڈ بل میں یہی لکھا ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ ہینڈ بل میں یہ بات کسی حوالہ کے بغیر کہی گئی ہے۔ موجودہ صورت میں وہ نہ زیادہ سے زیادہ ایک خبر ہے ۔ اور خبر کے متعلق ہمارے فقہاء کا کہنا ہے کہ خبر میں سچ اور جھوٹ دونوں کا امکان ہوتا ہے (الخبر يحتمل الصدق والكذب)، پھر کیا آپ نے اس خبر کی تحقیق کی ۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ اس قسم کی کسی " خبر " کو تحقیق کے بغیر ماننا اسلام میں جائز نہیں۔ آپ کو چاہئے تھا کہ سب سے پہلے ہینڈ بل والے صاحب سے اس کا حوالہ مانگیں اور میری اصل عبارت کا تقاضا کریں۔ اور جب تک وہ حوالہ اور اصل عبارت پیش نہ کریں اس وقت تک اس معاملہ میں ہرگز کوئی رائے قائم نہ کریں۔ ۱۵ اکتوبر ۱۹۸۹ ایک صحابی نے بعد کے زمانہ میں ایک تابعی سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب ہم قرآن کی دس آیتیں لیتے تو ہم اس وقت تک آگے نہیں بڑھتے جب تک ہم اس کو پوری طرح سیکھ نہ لیں اور اس میں جو کچھ ہے ، اس کو پوری سچائی کے ساتھ اخذ نہ کر لیں (کنا اذا اخذنا عشر آیات لا نتجاوزها الا اذا تعلمنا ما بها بصدق) اصحاب رسول کی نظر قرآن کے معانی پر ہوتی تھی، موجودہ مسلمانوں کی نظر قرآن کے الفاظ پر ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک تدبر قرآن کی اہمیت تھی، اب لوگوں کے نزدیک تلاوت قرآن کی اہمیت ہے۔ کتنا زیادہ فرق ہے دور اول کے مسلمانوں میں اور آج کے مسلمانوں میں۔ ۱۶ اکتوبر ۱۹۸۹ میں مکان کی چھت پر تھا۔ اوپر نگاہ اٹھی تو دیکھا کہ بہت سی چیلیں بلندی پر اڑ رہی ہیں ۔ اچانک خیال آیا کہ یہ سب خدا کی نشانیاں ہیں۔ چڑیوں کو خدا نے اوپر ہوا میں اڑایا تا کہ انسان ہوائی جہاز بنانے کی بات سوچے ۔ اس نے مچھلیوں کو سمندر میں تیرایا تاکہ پانی کے جہاز بنانے کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader