آغازِ کلام
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
زہبان میں عام ہیں۔ قرآن کی آیت انی جاعل فی الارض خليفة (البقرہ) میں لفظ خلیفہ صاحب اقتدار ہی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ صفحہ ۵۲۔ مگر پورے مضمون میں لغت یا کلام عرب سے کوئی ایک مثال بھی نہیں دی گئی ہے کہ خلیفہ کا لفظ مجرد ہو کر محض اختیار و اقتدار کا مالک ہونے میں مستعمل رہا ہے۔ ہمارے علماء اکثر ایسی باتیں کہتے ہیں جن کے متعلق وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ثابت کر دیا۔ حالاں کہ خالص علمی اعتبار سے وہ ثابت شدہ نہیں ہوتا۔ یہ ایک غیر سائنسی استدلال ہے جو موجودہ زمانہ میں قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے علماء کے لئے سائنٹفکلابک کا مطالعہ بے حد ضروری ہے، تاکہ وہ جانیں کہ ثابت شدہ ہونے کا مطلب کیا ہے اور غیر ثابت شدہ ہونے کا مطلب کیا۔ ہمارے علماء کی اس کمی نے موجودہ زمانہ میں ان کے پیدا کردہ لٹریچر کو جدید انسان کے لئے بے معنی بنا دیا ہے۔ ۱۹ جنوری ۱۹۸۹ کشمیر کے دو صاحبان ملاقات کے لئے آئے ۔ ان سے گفت گو کے دوران میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے جن لوگوں کو اپنا لیڈر بنایا ، وہ سب کے سب مقرر تھے، ان میں سے کوئی بھی شخص مدبر نہ تھا۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان ہر طرف ناکام اور برباد نظر آتے ہیں۔ قوموں کی رہنمائی کے لئے مدبر شخص چاہئے، مقرر شخص کبھی قوم کی رہنمائی نہیں کر سکتا۔ ۲۰ جنوری ۱۹۸۹ ٹائمْس آف انڈیا (۱۹ جنوری ۱۹۸۹)، میں ہندوستانی وزیر اعظم شری راجیو گاندھی کا ایک انٹرویو چھپا ہے۔ اس کا خلاصہ اس کی سرخی کے مطابق یہ ہے کہ ہندوستان کی صنعت کو بیرونی مقابلہ کا سامنا کر کے جینا پڑے گا : Industry to face foreign competition آزادی (۱۹۴۷) کے بعد جو لوگ ملک کے حکمراں بنے ، ان کا نظریہ یہ تھا کہ ملکی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader