آغازِ کلام
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
صنعت کو تحفظ دینا ضروری ہے، ورنہ وہ بیرونی مقابلہ میں برباد ہو جائے گی۔ ۴۰ سال کے تجربہ میں معلوم ہوا کہ تحفظ نے ملکی صنعت کے معیار کو گرا دیا۔ سابق حکمرانوں نے بیرونی مقابلہ میں خطرہ کے پہلو کو دیکھا مگر وہ اس میں افادیت کے پہلو کو نہ دیکھ سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ مقابلہ اور مسابقت زندگی کی اعلیٰ ترقی کے لئے بے حد ضروری ہے۔ مقابلہ کو ختم کرنے کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ معیار ختم ہو جائے۔ ۲۱ جنوری ۱۹۸۹ کویت کے عربی ماہنامہ الوعی الاسلامی (جمادی الآخرة ۱۴۰۹، جنوری ۱۹۸۹) میں ڈاکٹر وہبہ الزحیلی کے قلم سے مضمون شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے: اقليمية الشريعة والقضاء في ديار الاسلام. صاحب مضمون بتاتے ہیں کہ اس معاملہ میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے کہ دار الاسلام میں جس طرح مسلمانوں کے اوپر حقوق الآدميين" میں حدود و تعزیرات کا اجرا کیا جاتا ہے، کیا اسی طرح غیر مسلموں کے اوپر بھی کیا جائے گا۔ پھر وہ لکھتے ہیں: ذهب جمهور الفقهاء، (مالك والشافعي وأحمد)، الى انه يخير القاضي المسلم بين الحكم والاعراض عن الحكم بين غير المسلمين في المعاملات لقوله تعالى: فان جاؤك فاحكم بينهم او اعرض عنهم (المائدة (۴۲)، والظاهر هو الرأى الاول. لأن هذه الآية منسوخة بالآية المتقدمة : وان احكم بينهم (صفحه ۴۱) اسلام میں جس چیز کو نسخ کہا گیا ہے، وہ حقیقتہً وہی ہے جس کو موجودہ زمانہ میں مدرتیج کہا جاتا ہے۔ مگر بعد کے زمانہ میں مسلم علماء نے یہ رائے قائم کرلی کہ جو حکم منسوخ ہوادو مطلق طور پر منسوخ ہو گیا۔ اس رائے کے نتیجہ میں اسلام کی بعد کی تاریخ زندگی کی ایک اہم حقیقت سے محروم ہوگئی اور وہ حکمت تدریج ہے۔ غیر مسلموں پر اسلامی قانون کے نفاذ کے بارہ میں سورۂ المائدہ کی آیت ۴۲ بے حد اہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلموں پر نفاذ احکام کے معاملہ میں حالات کی رعایت کی جائے گی۔ مثلاً انٹرنیشنل قانون کا لحاظ ، ان کے اوپر خود ان کے حج کا تقریباً ان سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader