آغازِ کلام
Urdu book, p. 180
By Maulana Wahiduddin Khan
تصور ان کے دماغ میں آئے۔ اس نے زمین پر گھوڑے کی سواری چلائی تاکہ انسان یہ سوچ سکے کہ اس کو پہیہ دار گاڑی بنانا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی تمام اشیاء دنیا میں پھیلادی ہیں تاکہ انسان اپنی عقل کو استعمال کر کے ان کے ذریعے اپنے لئے ترقی یافتہ دنیا بنائے۔ وہ فضا میں حیاتیاتی پرواز کو زمینی پرواز میں تبدیل کرے۔ وہ سمندر میں حیوانی تیراک کو مشینی تیراک کی صورت دے۔ وہ زمین میں جانوروں کے ذریعہ سفر کو ریلیوں اور کاروں کا سفر بنا دے۔ انسان سے خدا کو یہی تخلیقی عمل مطلوب ہے نہ کہ محض تقلیدی عمل جس کی تربیت آج ہمارے اداروں میں دی جارہی ہے۔ ۷ اکتوبر ۱۹۸۹ء پرانی دہلی کے دو سلمان بزرگ ملاقات کے لئے آئے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ آج کل ملک میں فرقہ واریت کی آگ بھڑک رہی ہے۔ جگہ جگہ ہندو مسلم فساد ہورہے ہیں۔ مثلاً بدایوں کوٹہ، اندور وغیرہ۔ میں نے کہا کہ فساد کا حل نہایت آسان ہے۔ وہ یہ کہ مسلمان یہ عزم کرلیں کہ وہ "دوسری غلطی" نہیں کریں گے۔ یعنی ہندوؤں کی طرف سے اشتعال انگیزی کے باوجود وہ مشتعل نہیں ہوں گے۔ میں نے کہا کہ خود دہلی کی دو مثالیں اس کے ثبوت کے لئے کافی ہیں۔ دہلی میں ۱۹۸۶ء میں فساد ہوا۔ مسلمانوں کو جان و مال کا نقصان اٹھانا پڑا۔ مگر اس قسم کے حالات کے باوجود ۱۹۸۸ء میں فساد نہیں ہوا۔ ۱۹۸۰ء میں فساد اس طرح ہوا تھا کہ ہندوؤں نے پرانی دہلی کے علاقہ میں جلوس نکالا۔ انہوں نے مسلم مخالف نعرے لگائے۔ اس پر مسلمان مشتعل ہو کر لڑ پڑے ۔ اس کے بعد فساد ہوا اور یک طرفہ طور پر مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑا۔ ۱۹۸۹ (ستمبر) میں ٹھیک اسی طرح ہندوؤں کا جلوس نکلا۔ اس نے مسلم مخالف نعرے لگائے آنے والے بزرگ نے تصدیق کی کہ وہ خود ان اشتعال انگیز نعروں کو سننے والوں میں تھے مگر اس بار دہلی میں کوئی فساد نہیں ہوا۔ ان دونوں واقعات کو ملا کر دیکھئے تو ان کے درمیان فرق کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ ۱۹۸۷ء میں مسلمان ردعمل کا شکار ہو گئے تھے اس لئے فساد ہوا۔ ۱۹۸۹ء میں وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader