آغازِ کلام
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
رد عمل کا شکار نہیں ہوتے اس لئے فساد کے اسباب کے باوجود فساد نہیں ہوا۔ مذکورہ مسلمان نے کہا کہ الیکشن بھی تو قریب ہے (یعنی ۲۲ ۲۴ نومبر ۱۹۸۹ کو لوک سبھا کا الیکشن ہونے والا ہے ، اس لئے گورنمنٹ نے فساد نہیں ہونے دیا)۔ میں نے کہا کہ کیا حکمراں پارٹی (کانگریس) کو صرف دہلی میں ووٹ لینا ہے۔ دوسرے مقامات پر اس کو ووٹ نہیں لینا ہے۔ جہاں آج بھی فسادات ہو رہے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ فساد ہمیشہ اسی مقام پر ہوتا ہے جہاں مسلمان رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جہاں مسلمان خاموش رہ جائیں وہاں فساد نہیں ہوتا۔ ۱۸ اکتوبر ۱۹۸۹ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۳، عمر خیام ۲۲ ۱۱-۱۰۲۸) پر ۵۳ سطر میں لکھی ہیں۔ (VII/530) اور خلیفہ ثانی عمر بن خطاب (۶۲۳ - ۵۸۶)، پر صرف ۵ سطریں (248/X) جبکہ کوئی مسلمان انسائیکلو پیڈیا تیار کرے تو وہ نہ صرف اس کے برعکس عمل کرے گا بلکہ اگر وہ عمر خیام پر پانچ سطریں لکھے گا تو عمر فاروق پر ۵۰ سطریں درج کرے گا۔ یہ صرف کافر عالم اور مسلمان عالم کے درمیان فرق کی بات نہیں ۔ یہی فرق خود مسلمانوں کے اپنے درمیان بھی پایا جاتا ہے۔ ایک مسلمان عالم اگراشخاص کا تذکرہ کرنے لگے گا تو اپنے حلقہ کے اکابر کے بارہ میں صفحات کے صفحات درج کر دے گا۔ اس کے برعکس دوسرے حلقہ کے اکابر کے بارہ میں یا تو سرے سے کوئی اندراج نہ ہوگا ، اور اگر اندر آج ہوگا تو صرف چند سطروں کی حد تک۔ اسی کو شاعر نے کہا ہے کہ : این گناہ است که در شهر شما نیز کنند ۱۹ اکتوبر ۱۹۸۹ دیوبند کے ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے فتنے وہ نہیں ہیں جو الملل والنحل اور اس طرح کی دوسری کتابوں میں بیان کئے گئے ہیں۔ ا۔ موجودہ زمانہ کا اعتقادی فتنہ یہ ہے کہ آج کا انسان خدا کو حذف کرکے واقعات کی توجیہ بیان کرتا ہے۔ کوئی شخص خدا کا منکر نہ ہو تب بھی اس کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ تمام واقعات کو خدا کو مانے بغیر سمجھ سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader