آغازِ کلام
Urdu book, p. 182
By Maulana Wahiduddin Khan
۲۔ دوسری بات عمل سے متعلق ہے۔ موجودہ زمانہ میں مارکس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان نظام سے بنتا ہے نہ کہ نظام انسان سے۔ اگرچہ مارکسزم آج زندہ نہیں ہے مگر اس کا یہ فکر اتنا پھیلا کہ مارکس کے مخالفین بھی اب تک اسی انداز سے سوچتے ہیں۔ عالم اسلام کے بیشتر تعلیم یافتہ لوگوں کی سوچ یہی ہے۔ حدیث میں کہا گیا ہے کہ قلب (ریاضن) کی اصلاح پر انسانی معاملات کی اصلاح کا انحصار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی تفکیر مبنی بر فرد (Individual-based) ہے۔ اس کے مقابلہ میں مارکسیت کے زیر اثر، موجودہ زمانہ کی عام تفکیر مبنی بر نظام (System-based) ہو گئی ہے۔ موجودہ زمانہ کے تمام مصلحین و مفکرین (مثلاً سید قطب، ابوالاعلی مودودی وغیرہ) اسی دوسرے طرز فکر کی پیداوار ہیں۔ حالاں کہ یہ طرز فکر اسلام کے عین برعکس ہے۔ ۲۰ اکتوبر ۱۹۸۹ء ایک صاحب کے بعض سوالات کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں جبندل محمد ضیاء الحق نے شخصی طور پر اور جماعت اسلامی اور اخوان المسلمین نے جماعتی طور پر یہ کوشش کی کہ وہ پہلے حکومت پر قبضہ کر لیں اور اس کے بعد افراد کی اصلاح کریں۔ یہ طریقہ سراسر سنت نبوی کے خلاف ہے، اس لئے، دھوم اور ہنگاموں کی لمبی سیاست کے باوجود اس کا کوئی فائدہ حاصل نہ ہو سکا۔ میں نے کہا کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پیش کش کی گئی کہ اگر آپ اپنی اس تحریک سے اقتدار چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنانے کے لئے تیار ہیں (ان کنت تريد به ملكا ملكناك علينا) آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ میں تمہارے اوپر اقتدار نہیں چاہتا۔ میں تو صرف بشیر و نذیر ہوں (ولا الملك عليكم. ولكن الله بعثنى اليكم رسولا و انزل علی کتاباً و امرني ان اكون بشيراً و نذيراً) سيرة ابن هشام، الجزء الاول صفحه ۱۵ - ۳۱۶ ) اس سے معلوم ہوا کہ یہ نظریہ سراسر غیر اسلامی ہے کہ پہلے حکومت پر قبضہ کر لو، اور اس کے بعد افراد کی اصلاح کرو۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے افراد کے اندر ایمانی انقلاب لے آؤ،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader