Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 183

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد حسبِ حالات حکومت تک پہنچو۔ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ عشقِ رسول ایک مبتدعانہ لفظ ہے۔ قرآن و حدیث میں کہیں بھی یہ لفظ استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ رسول اللہ کے معاملہ میں اتباعِ مطلوب ہے نہ کہ عشق۔ انھوں نے کہا کہ اگر محبت کا لفظ تو رسول اللہ کے لئے استعمال ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ محبت سے مراد عشق نہیں ہے۔ محبتِ رسول دراصل اتباعِ رسول ہی کا اگلا درجہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول کی اتباع مشینی انداز کی نہیں ہونا چاہئے۔ بلکہ والہانہ اتباع کے انداز میں ہونا چاہئے۔ ۲۲ اکتوبر ۱۹۸۹ء مغل حکمران اور نگ زیب نے کہا تھا کہ دنیا میں صرف انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے کہ بہت زیادہ ہے، پھر بھی کوئی نہیں : نیست جز آدم دریں عالم که بسیار است و نیست دنیا ایسے انسانوں سے بھری ہوئی ہے جو انٹرسٹ کے لئے متحرک ہوتے ہیں۔ مگر ساری دنیا میں ایک انسان بھی شاید ایسا موجود نہیں جو پرنسپل کے لئے متحرک ہوتا ہو۔ ذاتی مفاد کے لئے ہر آدمی دوڑ رہا ہے، مگر اصولِ حق کے لئے دوڑنے والا کوئی شخص نظر نہیں آتا۔ دنیا میں سب سے زیادہ بھیڑ سطحی انسانوں کی ہے۔ دنیا میں بیشتر انسان وہ ہیں جو صحیح معنوں میں اپنی ذات کے لئے بھی کرنا نہیں جانتے۔ کچھ انسان ایسے ہیں جو اپنی ذات کے لئے کرنا جانتے ہیں، اور ایسا انسان تو شاید آج کی دنیا میں نایاب کے درجہ میں ہے جو صحیح معنی میں حق کے لئے کرنا جانتا ہو۔ دنیا میں سب کچھ ہے مگر ایک سچا انسان نہیں۔ دنیا میں ہر چیز ہے گروہی ایک چیز نہیں جس کے لئے یہ دنیا تخلیق کی گئی تھی۔ عبد الواجد سردار (۲۶ سال) ڈھاکہ (دھان منڈی) کے رہنے والے ہیں۔ وہ دہلی کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page