آغازِ کلام
Urdu book, p. 184
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مدرسے میں زیر تعلیم ہیں۔ ان کے گھر کے سب لوگ انگریزی تعلیم یافتہ اور خوش حال ہیں۔ ان کی والدہ نے کہا کہ میں اپنے ایک بچہ کو عربی پڑھاؤں گی۔ اس طرح وہ دہلی پہنچے۔ ملاقات کے دوران انھوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں ۱۲۰ بیگھہ زمین ہے۔ گھر کا کوئی آدمی زمین کی دیکھ بھال نہیں کر سکتا، اس لئے پوری زمین بٹائی پر دی ہوئی ہے۔ جن لوگوں کو بٹائی پر دیا گیا ہے وہ سب ہندو ہیں۔ انھوں نے کہا ــــــــ ہندوؤں کا اخلاق بہت اچھے ہوتے ہیں، وہ دھوکا نہیں دیتے: مثلاً کسی کھیت میں ۲۰ کونئل دھان ہو تو مسلمان اس کو ۱۵ کونئل بتائے گا اور رہم کو ساڑھے سات کونئل دے گا۔ مگر ہندو پورا ۲۰ کونئل بتائے گا اور ہم کو اس کا نصف (۱۰ کونئل) دے گا۔ عبد الواحد صاحب نے مزید بتایا کہ بنگلہ دیش ۱۹۷۱ میں بنا۔ اس وقت تو میں بچہ تھا۔ مگر ہمارے بڑے بتاتے ہیں کہ پاکستانی دور میں ہم زیادہ اچھے تھے ۔ میں نے کہا کہ ایسے لوگ کتنے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ستر فیصد۔ برصغیر کی تقسیم نے مسلمانوں کو حقیقی معنوں میں کچھ نہیں دیا۔ وہ بنگلہ دیش میں بھی برباد ہیں، ہندستان میں اور پاکستان میں بھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہر جگہ بربادی کی نوعیت الگ الگ ہے۔ ۲۲ اکتوبر ۱۹۸۹ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا : آپ کا مخالف جب آپ سے کچھ چھینتا ہے تو عین اسی وقت وہ بہت بڑی چیز آپ کو دے دیتا ہے ــــــــ زندگی کا نیا حوصلہ، نئے عزم کے ساتھ اپنے لئے مستقبل کی تعمیر۔ محرومی کا واقعہ پیش آنے کے بعد اگر آپ مایوس نہ ہوں، بلکہ از سر نو اپنی زندگی کی تعمیر کا نقشہ بنائیں تو محرومی کا واقعہ آپ کے لئے نئے شاندار تر مستقبل کی طرف سفر کا زینہ بن جائے گا۔ ۲۵ اکتوبر ۱۹۸۹ آج کے ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) میں ہیلے (Hailey) کا ایک قول نقل کیا گیا ہے کہ ہر مومن خدا کا ایک معجزہ ہے : Every believer is God's miracle.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader