آغازِ کلام
Urdu book, p. 185
By Maulana Wahiduddin Khan
اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا اس کائنات کی سب سے واضح حقیقت ہے۔ وہ سورج اور چاند سے بھی زیادہ روشن ہے۔ مگر خدا پر یقین لانا صرف ان لوگوں کے لئے ممکن ہے جو نہ دکھائی دینے والی چیزوں کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ جو لوگ صرف دکھائی دینے والی چیزوں کو دیکھیں، ان کے لئے خدا کا کوئی وجود نہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یقیناً یہ ایک خدائی معجزہ ہے کہ ایک شخص کا دماغ خدا کے وجود پر کامل یقین کرے اور اس کا دل خدا کے احساس سے لرز اٹھے۔ ۲۶ اکتوبر ۱۹۸۹ مولانا انیس تھانوی (مالیگاؤں) مرکز میں آگئے ہیں۔ انھوں نے تذکیر القرآن کے عربی ترجمہ کا کام شروع کر دیا ہے۔ آج غالب وہ دیباچہ کا ترجمہ مکمل کر لیں گے۔ ترجمہ کا یہ کام لیبیا اور تیونس اور الجزائر کے عرب نوجوانوں کے اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ان لوگوں نے کہا ہے کہ ترجمہ کی تکمیل کے فوراً بعد وہ لوگ اس کی اشاعت کا انتظام کریں گے۔ تذکیر القرآن کا عربی ترجمہ شائع ہونا گویا اس مشن کا اگلے مرحلہ میں داخل ہونا ہے۔ اس نئے مرحلہ کے اسباب خدا کے فضل سے پیدا ہو گئے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں اس نئے مرحلہ کو دیکھنے کے لئے زندہ رہوں گا یا نہیں۔ تاہم مجھے یقین ہے کہ انشاء اللہ یہ مرحلہ ضرور آئے گا، خواہ وہ میری موت سے پہلے آئے یا میری موت کے بعد۔ ۲۷ اکتوبر ۱۹۸۹ ایک صاحب نے ہندوستانی حکومت کے تعصب کی شکایت کی۔ میں نے کہا کہ دہلی میں چار یونیورسٹیاں ہیں۔ اور چاروں یونیورسٹی کے وائس چانسلر اس وقت مسلمان ہیں۔ دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر منس رضا ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں پروفیسر ایم ایس اگوانی ، جامعہ ملیہ میں ڈاکٹر ظہور قاسم۔ ہمدرد یونیورسٹی میں پروفیسر رشید الظفر۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں سے جو چیز سب سے زیادہ اٹھا لی گئی ہے، وہ شکر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جو چیزیں انہیں ملی ہوئی ہے، اس پر وہ شکر نہیں کرتے۔ اور جو چیز نہیں ملی، اس پر فریاد کرتے ہیں۔ شکر کرنے پر خدا کی نعمتوں میں اضافہ کیا جاتا ہے اور ناشکری کرنے پر خدا کی نعمتیں چھین لی جاتی ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader