آغازِ کلام
Urdu book, p. 186
By Maulana Wahiduddin Khan
مسٹر جناح کی وفات ۱۱ ستمبر ۱۹۴۸ کو ہوئی۔ ہندوستان نے ۱۳ ستمبر ۱۹۴۸ کو اپنی فوجیں حیدر آباد میں داخل کردیں اور حیدر آباد اسٹیٹ پر قبضہ کر لیا۔ تاریخوں کی اس قربت کی وجہ سے پاکستانی سمجھتے ہیں کہ ہندوستان مسٹر جناح سے ڈرتا تھا۔ جب تک وہ زندہ تھے، ہندوستان کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ حیدر آباد کے خلاف فوجی کارروائی کرے جس نے آزادئ کے بعد پاکستان سے تعلق قائم کر لیا تھا جیسے ہی مسٹر جناح کا خاتمہ ہوا، ہندوستان نے فوراً اپنی فوجیں حیدر آباد میں داخل کردیں۔ اس کے جواب میں ہندوستان کے لوگ کہتے ہیں کہ حیدر آباد کے خلاف "پولیس ایکشن" کی تاریخیں پہلے مقرر کی جا چکی تھیں۔ میں کہوں گا کہ پاکستان کی سیاست اگر ایک شخص کی ذات پر منحصر تھی تو ایسے پاکستان کو بنوانا ہی غلط تھا۔ ہر شخص (بشمول جناح) ایک روز مرنے والا تھا۔ جب کہ پاکستان کو اس کے بعد بھی باقی رہنا تھا۔ پھر ایسے پاکستان کو بنوانے کی ضرورت کیا تھی۔ جس کی امیدوں کا سہارا ایسی کمزور ڈور ہو جسے کو بہر حال ٹوٹ جانا ہے۔ ۲۹ اکتوبر ۱۹۸۹ لارڈ بولنگ بروک (Lord Bolingbroke) کا ایک قول ہے کہ ہر آدمی کی عقل اس کے لئے دار الاستخارہ کی حیثیت رکھتی ہے: Every man's reason is every man's oracle. قدیم یونان میں مذہب ہی دار الاستخارہ (Oracle) ہوا کرتا تھا۔ یہاں آکر لوگ مخصوص انداز میں اپنے مفروضہ دیوتاؤں سے مشورہ یا پیشگی رائے طلب کرتے تھے۔ اس کا جواب انھیں مبہم اور پر اسرار طور پر ملتا تھا جس کو وہ مقدس سمجھ کر قبول کر لیتے تھے۔ گویا اوریکل کا مطلب ہے پر اسرار مشیر جس پر اعتماد کیا جائے ۔ ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ اس کی عقل جو کچھ اسے سمجھا دے، اس کو وہ صحیح سمجھ کر پکڑ لیتا ہے۔ سچا انسان وہ ہے جو اپنی عقل کے خول سے باہر نکلے اور چیزوں کے بارہ میں حقیقت واقعہ کے اعتبار سے رائے قائم کرے نہ کہ محض اپنی ذاتی سوچ کے اعتبار سے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader