آغازِ کلام
Urdu book, p. 187
By Maulana Wahiduddin Khan
۲۹ اکتوبر اور ۳۰ کی درمیانی رات ہے۔ گہراہی میں ایک بج رہے ہیں۔ آج دیوالی ہے۔ ہر طرف سے پٹاخوں کی آوازیں آرہی ہیں۔ فضا دھویں سے بھر گئی ہے۔ شور وغل سے اپنے ذہن کو پھیرنے کے لئے میں لکھنے پڑھنے میں مشغول ہو گیا، یہاں تک کہ رات کے ایک بج گئے۔ بچپن میں میں سنتا تھا کہ دیہات کی ہندو عورتیں اپنے گھروں میں سوپ بجاکر کہتی ہیں: "اسر بیٹھیں دلدر نکلیں" یعنی گھر میں برکت آئے اور نحوست اس سے نکل جائے۔ اب اس رسم نے پرشور پٹاخہ بازی کی صورت اختیار کر لی ہے۔ دہلی میں ہر سال دیوالی کی رات کو اتنے زیادہ پٹاخے چھوڑے جاتے ہیں کہ رات کا بیشتر حصہ دھماکوں سے گونجتا رہتا ہے اور پورے شہر کی فضا دھویں اور گیس سے بھر جاتی ہے۔ اس بے معنی رسم کے پیچھے شرک ہے۔ ہندو اپنے مشرکانہ عقیدہ کے تحت سمجھتے ہیں کہ دیوالی کی رات کو شور کرنے سے دلدر (نحوست) بھاگ جاتی ہے۔ اسی طرح اس ملک کی تمام برائیوں اور خرافات کے پیچھے مشر کا نہ عقائد شامل ہیں۔ اس ملک کی اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں جب تک یہاں سے شرک کا خاتمہ نہ ہو۔ اس ملک کی سب سے بڑی خیر خواہی یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں کو شرک سے نکال کر توحید کے عقیدہ پر قائم کیا جائے۔ ۳۱ اکتوبر ۱۹۸۹ انڈیا ٹوڈے انگریزی کا مشہور ہفت روزہ ہے۔ اس نے اپنا اردو ایڈیشن نکالنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لئے کاتب اور ایڈیٹر رکھ لئے گئے حتی کہ اس کے پہلے شمارہ کی کتابت بھی ہو گئی۔ اس درمیان میں ان کی ٹیم یہ سروے کر رہی تھی کہ انڈیا ٹوڈے اگر اردو میں نکلے تو اس کی اشاعت کتنی ہوگی۔ ٹیم نے جائزہ لے کر بتایا کہ ۱۵۔ ۲۰ ہزار تک اس کی اشاعت ہو سکتی ہے۔ اس رپورٹ کے بعد فوراً اسکیم ختم کر دی گئی۔ انڈیا ٹوڈے کا معیار یہ ہے کہ پرچہ کی اشاعت کم از کم پچاس ہزار ہونی چاہئے۔ اس سے کم تعداد کو وہ شمار کے قابل نہیں سمجھتے۔ دوسری طرف مسلم صحافت کا حال یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے کسی پرچہ کی اشاعت پندرہ ہزار ہو جائے تو وہ پر فخر طور پر اعلان کرے گا کہ میرا پرچہ پندرہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader