آغازِ کلام
Urdu book, p. 188
By Maulana Wahiduddin Khan
ہزار کی تعداد میں چھپتا ہے۔ کتنا فرق ہے ایک صحافت میں اور دوسری صحافت میں۔ یکم نومبر ۱۹۸۹ م۔ افضل (پیدائش ۱۹۵۲) اخبار نوویکلی کے مالک اور ایڈیٹر ہیں۔ وہ ملاقات کے لئے آئے اور اپنی صحافت کے بارہ میں تفصیل کے ساتھ بتاتے رہے۔ ان کے اندر وقت کا شعور بہت زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا ”دیر میں نے کبھی نہیں کی زندگی میں۔“ مثلاً ۳۱ اکتوبر ۱۹۸۴ کو سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کو قتل کیا گیا توم۔ افضل صاحب کا پرچہ کتابت ہو کر پریس جا چکا تھا۔ انھوں نے سوچا کہ پرسوں جب میرا پرچہ چھپ کر بازار میں آئے گا تو ہر آدمی کے ذہن میں وزیر اعظم کے قتل کا واقعہ ہوگا۔ اس وقت میرا موجودہ پرچہ کون پڑھے گا۔ انھوں نے پرچہ پریس سے واپس منگالیا اور دو رات اور ایک دن کی مسلسل محنت کے بعد نیا پرچہ تیار کیا۔ جو سارا کا سارا اندرا گاندھی کی باتوں اور تصویروں سے بھرا ہوا تھا۔ ان کا یہ پرچہ خوب بکا۔ اچانک ان کے پرچہ کی اشاعت بڑھ گئی۔ اسی طرح ۷ اگست ۱۹۸۸ کو سابق صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق ایک ہوائی حادثہ میں ہلاک ہوگئے ۔ اس وقت بھی م۔ افضل صاحب کا پرچہ تیار تھا۔ دوبارہ انھوں نے سوچا کہ میرا پرچہ جب چھپ کر دودن کے بعد بازار میں آئے گا تو اس میں ضیاء الحق کے بارہ میں کچھ نہ ہوگا، جب کہ لوگ سب سے زیادہ اسی کو پڑھنا چاہیں گے۔ وہ فوراً پاکستان روانہ ہو گئے۔ اسلام آباد پہنچ کر ضیاء الحق کے جنازہ میں شرکت کی۔ آنکھوں دیکھا حال تیار کیا۔ پاکستانی اخبارات کی کاپیاں خریدیں۔ تصویریں حاصل کیں۔ اور پھر فوراً واپس آکر پورا پرچہ از سر نو مرتب کر ڈالا۔ یہ پرچہ بہت بکا ۔ اخبار نو کی اشاعت کئی گنا بڑھ گئی۔ م۔ افضل صاحب نے یہ سب باتیں بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیں۔ اس کو سن کر میں نے کہا کہ دوسرے اخبارو الوں میں اور مجھ میں یہ فرق ہے کہ دوسرے لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ کل کے دن آدمی کیا پڑھے گا ، میں یہ دیکھتا ہوں کہ کل کے دن آدمی پر کیا بیتے گا۔ چنانچہ عام اخباروں اور رسائل کے برعکس میں نے مذکورہ دونوں واقعات پر بالکل مختلف انداز سے لکھا۔ ملاحظہ ہو ، اندرا گاندھی کے قتل پر الرسالہ دسمبر ۱۹۸۴ ، صفحہ ۷۔ ضیاء الحق کی موت پر الرسالہ اکتوبر ۱۹۸۸

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader