آغازِ کلام
Urdu book, p. 189
By Maulana Wahiduddin Khan
کئی برس سے میں ایک سوال سے دوچار تھا۔ جب میں کسی مسلمان کی تحریر پڑھتا یا مسلمانوں کی کسی ملکی یا غیر ملکی کانفرنس میں شرکت کرتا تو اکثر ایک چیز مجھے پریشان کرتی تھی۔ یہ لوگ ایک طرف مسلمانوں کو داعی بتاتے ہیں، اور دعوت و تبلیغ کے الفاظ لکھتے اور بولتے ہیں۔ دوسری طرف عین اسی وقت وہ دوسروں کے خلاف نفرت اور احتجاج کا مظاہرہ بھی کہتے ہیں۔ حالاں کہ دعوت اور نفرت، اور دعوت اور احتجاج دونوں متضاد باتیں ہیں۔ میں سخت الجھن میں رہتا تھا کہ آخر یہ پڑھے لکھے لوگ اس تضاد کو کیوں نہیں جانتے۔ آج فجر کے وقت اچانک اس سوال کا جواب میرے ذہن میں آیا۔ اصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے ’داعی‘ ہونے کو جانا، مگر انھوں نے دوسروں کے ’مدعو‘ ہونے کو دریافت نہیں کیا۔ یہی سادہ سی وجہ ہے جس نے ان تمام لوگوں کو فکری اور عملی تضاد میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اپنے داعی ہونے کو جاننا اس وقت تک آدمی بات ہے جب تک اسی کے ساتھ دوسرے کے مدعو ہونے کو نہ جانا جائے ۔ اس قسم کی ادھوری دریافت کبھی آدمی کے اندر صحیح داعیانہ نفسیات پیدا نہیں کر سکتی۔ ایسے آدمی کے لئے دعوت اظہار فخر ہوگی۔ وہ دوسروں پر برتری حاصل کرنے کے ہم معنی ہوگی۔ مگر جو شخص دوسروں کے مدعو ہونے کو جان لے، اس کا کلام تو تواضع کا کلام ہوگا ۔ وہ دوسروں کا خیر خواہ بن جائے گا۔ حتیٰ کہ وہ مدعو کی زیادتیوں کو ایک طرفہ طور پر برداشت کرکے اس کے لئے دعا کرنے لگے گا۔ ۳ نومبر ۱۹۸۹ ہمارے دفتر کے پاس سڑک کے دوسری طرف کمیونٹی سنٹر ہے۔ اس کی چہار دیواری پر دہلی کے کسی میڈیکل سنٹر نے اشتہار کے طور پر لکھ دیا کہ اسقاط بذریعہ مشین : Abortion by machine. جلی حرفوں میں لکھا ہوا یہ اشتہار ہمارے دفتر کے عین سامنے تھا۔ اس کو پہلی بار میں نے دیکھا تو مجھے غصہ آیا۔ میں نے چاہا کہ اس کو مٹا دوں۔ پھر میں نے فیصلہ کیا کہ اس پر صبر کر لیا جائے اور حالات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader