آغازِ کلام
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
معاہدہ کرنا اور پھر اس کے مطابق معاملہ کرنا۔ ایک عالم ملاقات کے لئے آئے۔ وہ ایک بڑے عربی دینی مدرسہ سے فارغ ہیں اور مدرسہ کے چندہ کے لئے ہر سال سفر کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اس سلسلہ میں کئی بار انڈمان جاچکے ہیں۔ انڈمان کے لئے کلکتہ سے پانی کے جہاز کے ذریعہ جانا ہوتا ہے۔ یہ مسلسل پانچ دن کا سفر ہے۔ بڑے جہاز میں ڈھائی ہزار آدمی ہوتے ہیں۔ پانچ سو آدمی صرف عملہ کے ہوتے ہیں۔ اس میں پولیس کے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔ اس طرح کی بہت سی معلوماتی باتیں انھوں نے بتائیں۔ میں نے کہا کہ آپ نے کئی بار سمندر کے ذریعہ انڈمان کا سفر کیا ہے۔ کسی سفر میں کوئی خاص سبق آموز بات جو آپ کو ملی ہو، وہ بتائیے۔ مگر وہ کوئی سبق کی بات نہ بتا سکے۔ اسلامی نظام کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کے تمام ادارے اور اس کی سرگرمیاں (Education oriented) ہوں۔ مدرسہ، مسجد، اجتماع، قیادت اور صحافت سب اس طرح چلائے جائیں کہ ان سے مسلمانوں کا شعور بیدار ہوتا رہے۔ مگر یہی وہ اصل چیز ہے جس سے ہمارے تمام ادارے بالکل خالی ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا کوئی ادارہ بھی شعور کی تربیت کا کام نہیں کر رہا ہے۔ یہ بلاشبہ موجودہ مسلمانوں کی سب سے بڑی کمی ہے۔ ۲۳ جنوری ۱۹۸۹ دو صاحب آئے جو تبلیغی جماعت سے متاثر تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم تبلیغ کو ایک اچھی تحریک سمجھتے ہیں۔ مگر کیا وجہ ہے کہ تبلیغ کے ذریعہ کوئی گہری تبدیلی نہیں ہوتی۔ میں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ تبلیغ کے رہنماؤں نے اپنے کام کی بنیاد فضائل پر رکھی، جب کہ پیغمبرانہ طریقہ یہ ہے کہ اصلاحی کام کی بنیاد تعمیر شعور پر رکھی جائے جس کو قرآن میں تزکیہ کہا گیا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف تبلیغی جماعت کا نہیں۔ موجودہ زمانہ کی تمام مسلم تحریکوں کا ہے۔ ان رہنماؤں نے اس مفروضہ پر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں اپنا کام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader