Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 190

By Maulana Wahiduddin Khan

کا انتظار کیا جائے۔ ایک سال کے بعد آج میں نے غور کیا تو اشتہار کی عبارت مٹ چکی تھی۔ وہاں کٹے پٹے حروف کے سوا کچھ اور دکھائی نہیں دیتا تھا۔ "انتظار" کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ اس دنیا میں برائی ایک اجنبی اور نامعلوم چیز ہے۔ جب بھی یہاں کوئی برائی پیدا ہوتی ہے تو فطرت کا نظام خود ہی اس کو ختم کرنے کے لئے متحرک ہو جاتا ہے۔ اگر ہم انتظار کر سکیں تو ہم دیکھیں گے کہ فطرت نے زیادہ کامیاب طور پر اس مسئلہ کا خاتمہ کر دیا ہے جس کو ہم صرف نا کام طور پر ختم کرنا چاہتے تھے۔ ۴ نومبر ۱۹۸۹ ایک صاحب سے گفتگو کے دوران میں نے کہا: بولنا ایک ذمہ داری ہوتی ہے۔ جو لوگ بولنے کی ذمہ داری کے احساس سے چپ ہو جائیں، وہی لوگ اس قابل ہیں کہ وہ بولیں۔ چلنے کی ذمہ داریوں کو محسوس کرکے جن کے قدم رک گئے ہوں، وہی لوگ اس قابل ہیں کہ وہ چلیں۔ کرنے کی ذمہ داری کے احساس سے جن پر لرزہ طاری ہوتا ہو، وہی اس قابل ہیں کہ ان کو کرنے کا موقع دیا جائے۔ ۵ نومبر ۱۹۸۹ سوویت روس نے ۲۷ ستمبر ۱۹۷۹ کو اپنی فوجیں افغانستان میں داخل کر دی تھیں۔ اس کے بعد افغان مجاہدین امریکہ کی مدد سے روسیوں کے خلاف لڑتے رہے۔ آخر کار ۸ فروری ۱۹۸۸ کو روسی صدر گورباچیف نے اعلان کیا کہ روسی فوجیں افغانستان سے واپس چلی جائیں گی۔ ۱۵ مئی ۱۹۸۸ سے یہ انخلا شروع ہوا۔ ۱۵ فروری ۱۹۸۹ کو روس کا آخری فوجی دستہ افغانستان سے چلا گیا۔ اس کے بعد سے افغانی مجاہدین اور افغانی حکومت کے درمیان خون ریز جنگ جاری ہے۔ مگر مجاہدین اب تک ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کو ختم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اب دو تجویزیں سامنے آئی ہے۔ ۳۱ اکتوبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یہ تجویز منظور کی ہے کہ افغان مجاہدین اور ڈاکٹر نجیب مشترکہ گورنمنٹ بنائیں۔ دوسری تجویز کچھ افغانیوں کی ہے کہ سابق حکمران ظاہر شاہ (مققیم روم) کو واپس بلایا جائے۔ مگر مجاہدین دونوں میں سے کسی تجویز پر راضی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page