Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 191

By Maulana Wahiduddin Khan

میرے نزدیک زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ افغانی مجاہدین دونوں میں سے کسی ایک تجویز پر راضی ہو جاتے۔ وہ ڈاکٹر نجیب کے ساتھ عارضی گورنمنٹ بنا کر مطالبہ کرتے کہ آزادانہ الیکشن کرایا جائے۔ ظاہر شاہ کو علامتی حکمران بنا کر آزادانہ انتخاب کا انعقاد کیا جاتا۔ اس کے بعد عوام جن لوگوں کو چنتے وہ حکومت کرتا۔ مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ افغانستان میں خون خرابہ کے سوا کچھ اور ہونے والا نہیں۔ ۴ نومبر ۱۹۸۹ عبدالمتین بنارسی صاحب الرسالہ کے کاتب ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے ایک ہندو سے پوچھا 'دسنرہ' کیوں ہے؟ اس نے فوراً جواب دیا: جیسے آپ کے یہاں تعزیہ ہے، ویسے ہی ہمارے یہاں دسہرہ ہے۔ آپ کے یہاں محملیا ہے، ہمارے یہاں رام لیلا ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے کس طرح حق اور باطل کا فرق مٹا دیا ہے۔ محرم کا جلوس، میلاد النبی کا جلوس اور اس طرح کے دوسرے مظاہروں نے اسلام اور بغیر اسلام کی امتیازی حیثیت کو ختم کر دیا ہے۔ آجکل کچھ مسلم رہنما یہ تقریر کر رہے ہیں کہ موجودہ حکومت مسلمانوں کے ملی تشخص کو مٹا رہی ہے۔ در حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو یہ بدنامی اپنے سر لینے کی ضرورت نہیں۔ مسلمان پہلے ہی اس تشخص کو زیادہ بڑے پیمانے پر اپنے آپ مٹا چکے ہیں۔ ۷ نومبر ۱۹۸۹ ڈاکٹر محمد نایف قصبہ ملاقات کے لئے آئے۔ وہ شام کے باشندے ہیں۔ آجکل وہ سعودی عرب کے ایک مستشفی (اسپتال) میں ڈاکٹر ہیں جو الر اس میں بنایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب میں سعودی اور غیر سعودی کی تفریق ہر سطح پر جاتی ہے۔ البتہ امریکیوں کو ان کے یہاں بہت اونچا مقام حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب میں خلاف اصول اور خلاف شریعت باتیں ہیں۔ مگر کوئی آدمی ان کے خلاف بولنے کی جرات نہیں کرتا۔ حتی کہ جو شخص باہر سے وہاں آتا ہے۔ دھیرے دھیرے اس کا احساس مردہ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ سعودی عرب میں یہ مثل مشہور ہے: السعودية مقبرة العلماء

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page