آغازِ کلام
Urdu book, p. 192
By Maulana Wahiduddin Khan
المسلمین (سعودی عرب مسلم علما کا تبصرہ ہے) قرآن میں سابق اہل کتاب کا یہ جرم بتایا گیا ہے کہ وہ اہل کفر کے قول کی تقلید کرتے ہیں۔ يضاهئون قول الذين كفروا (1) موجودہ زمانہ کے ہندوستانی مسلمان اپوزیشن کی مضاہات کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں فرقہ وارانہ فساد کا جو مسئلہ ہے، اس میں مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے اپوزیشن پارٹی کی بولیاں بولتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر اپنے سیاسی مفاد کے لئے حکمراں پارٹی کو برا کہتے ہیں۔ وہ ہمیشہ سارا الزام ایڈمنسٹریشن پر ڈال کر حکمراں پارٹی کو ڈسکیڈیٹ کرنا چاہتے ہیں۔ یہی بولی مسلمانوں نے ان سے لے لی ہے۔ جب کہیں فساد ہوتا ہے، تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان اپوزیشن کے دفتروں سے چھپے ہوئے فارم لیتے ہیں اور ان پر اپنا دستخط ثبت کرکے ان کو شائع کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ بلا شبہ عین وہی جرم ہے جس میں سابق اہل کتاب مبتلا ہوئے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس معاملہ میں قرآن وحدیث کو دیکھیں اور قرآن وحدیث کے مطابق مسلمانوں کو رہنمائی دیں۔ اگر وہ اپوزیشن کی بولی بولتے رہے تو ان کا بھی وہی انجام ہوگا جو سابق اہل کتاب کا ہوا۔ ۹ نومبر ۱۹۸۹ء آج مولانا کوثر نیازی (اسلام آباد، پاکستان) ملاقات کے لئے آئے۔ آجکل وہ پاکستان کی مرکزی اسمبلی کے ممبر ہیں۔ اس سے پہلے امور مذہبی کے وزیر رہ چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے اپنے آخری دور میں ایک میٹنگ کی۔ اس میں علما اور دانشوروں کو بلایا۔ میں بھی اس میں شریک تھا۔ انھوں نے بہت بتایا کہ میری باری آئی تو میں نے ضیاء الحق صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے میرے نزدیک اسلام کی سروس نہیں کی۔ بلکہ آپ نے اس کے حق میں ڈس سروس (Dis-service) کیا ہے۔ اس سے پہلے لوگ یہ امید باندھے ہوئے تھے کہ اسلام آئے گا تو ان کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ آپ نے حکومت پر قبضہ کرکے اعلان کیا کہ اسلام آگیا۔ مگر عوام نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader