آغازِ کلام
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
دیکھا کہ ان کے مسائل اور زیادہ بڑھ گئے۔ قومی اور علاقائی عصبیتیں پہلے سے زیادہ جاگ اٹھیں۔ جہاں پہلے پچاس روپیہ رشوت دینا ہوتا تھا، وہاں اب پانچ سو روپیہ رشوت دینا پڑتا ہے ۔ وغیرہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب لوگوں کی نظریں اسلام سے ہٹ گئیں۔ اب وہ اپنے مسائل کے لئے دوسری دوسری چیزوں کی طرف دیکھنے لگے ہیں۔ ۱۰ نومبر ۱۹۸۹ء حکیم عبدالحمید صاحب (ہمدرد دواخانہ) کے بھائی حکیم محمد سعید صاحب کراچی میں رہتے ہیں۔ وہاں انھوں نے بہت بڑا دواخانہ قائم کیا ہے۔ اخبار نو کے ایڈیٹر ام افضل صاحب نے ان کا انٹرویو لیا۔ انھوں نے حکیم محمد سعید صاحب سے جو سوالات کئے، ان میں سے ایک سوال یہ تھا آپ کے بڑے بھائی حکیم عبدالحمید صاحب گوشہ نشین قسم کے انسان ہیں۔ اس کے برعکس آپ عوامی زندگی میں بہت زیادہ متحرک رہتے ہیں۔ آپ دونوں میں اتنا زیادہ فرق کیوں۔ حکیم محمد سعید صاحب نے جواب دیا: عوامی زندگی گزارنے کے محرکات متعدد ہو سکتے ہیں۔ مگر ایک جذبہ بہ ہر حال یہ ہوتا ہے کہ انسان خود کو مقبول عام بنائے اور داد و وصول کرے۔ یہ انسانی کمزوری ہے۔ حکیم عبدالحمید صاحب نے اس کمزوری پر قابو پالیا ہے، میں اس کے لئے کوشاں ہوں (اخبار نو ، ۱۰ نومبر ۱۹۸۹ء) موجودہ پریس کے زمانہ میں یہ بیماری بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ جس شخص کے اندر کچھ امتیازی صلاحیت ہوتی ہے وہ فوراً شہرت کا طالب بن جاتا ہے۔ عوامی مقبولیت حاصل کرنا اور لوگوں سے داد و وصول کرنا اس کا سب سے بڑا مذہب بن جاتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنی زبان سے بھی اس کا اقرار کر لیتے ہیں اور دوسرے لوگ زبان سے اس کا اقرار نہیں کرتے اگرچہ ان کی روز و شب کی سرگرمیاں خاموش زبان سے ہر وقت پکار رہی ہوتی ہیں کہ ان کی پوری زندگی شہرت اور مقبولیت کے رخ پر چل رہی ہے۔ ابن جوزی نہایت ذہین اور اعلیٰ پایہ کے عالم تھے۔ امام ذہبی نے ان کی بابت لکھا ہے کہ ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader