Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 194

By Maulana Wahiduddin Khan

بار بغداد میں شیعہ اور سنی کے گرم مباحثوں میں یہ بحث ہوئی کہ علی افضل تھے یا ابو بکر افضل تھے۔ سنی گروہ کہتا تھا کہ ابو بکر تمام صحابہ میں افضل ہیں۔ شیعہ گروہ کہتا تھا کہ علی سب میں افضل ہیں۔ آخر کار دونوں گروہوں میں طے ہوا کہ اس معاملہ میں ابن جوزی سے رجوع کیا جائے۔ ابن جوزی کے پاس جب یہ مسئلہ آیا تو انھوں نے دونوں گروہوں کی بات سننے کے بعد ایک مختصر جملہ کہہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ دونوں میں سے افضل وہ ہے جس کی لڑکی ان کے عقد میں تھی (افضلھما من كانت ابنته تحته) یہ جملہ ایسا ہے جس میں ضمیر کے مرجع کا تعین نہیں ہوتا۔ چنانچہ اس کو سن کر دونوں گروہ خوش ہو گئے۔ ہر ایک نے اس کو اپنے اپنے معنی میں لے لیا۔ سنی گروہ نے سمجھا کہ ابو بکر افضل تھے، کیوں کہ ان کی بیٹی عائشہ رسول اللہ کے عقد میں تھیں۔ شیعہ گروہ نے سمجھا کہ علی افضل تھے، کیوں کہ رسول اللہ کی بیٹی فاطمہ سے ان کا نکاح ہوا تھا۔ جواب کا یہ طریقہ اس وقت مفید ہے جب کہ فتنہ کو دفع کرنا مقصود ہو مگر جب اظہار حق کا موقع ہو تو جواب کا یہ طریقہ درست نہیں۔ ۱۴ نومبر ۱۹۸۹ غزوہ حنین کے بعد جو حج تھا، اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر کو امیرِ حج کے لئے روانہ کیا۔ اس کے بعد سورۃ التوبہ اتری۔ اس میں حکم تھا کہ حج کے موقع پر اعلان کر دیا جائے کہ اس سال کے بعد کسی مشرک کو کعبہ کا حج کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد کو حضرت علی کو روانہ کیا کہ مکہ جا کر لوگوں کے درمیان اس بات کا اعلان کر دو۔ حضرت علی روانہ ہوئے تو مکہ پہنچنے سے پہلے درمیان راستہ میں حضرت ابو بکر مل گئے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابو بکر نے ملاقات ہوتے ہی فوراً پوچھا : امیر (مامور) تم امیر بنا کر بھیجے گئے ہو یا تمہاری حیثیت مامور کی ہے ، حضرت علی نے کہا کہ میں امیر نہیں ہوں بلکہ مامور ہوں (بل مامور) اس کے بعد دونوں مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ (تفسیر ابن کثیر ۳۲۲/۲) ٹامس جیفرسن (Thomas Jefferson) امریکہ کا تیسرا صدر تھا۔ وہ ۱۷۴۲ء میں پیدا ہوا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page